مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا گیا۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے میر واعظ عمر فاروق نے بتایا کہ انہیں ایک بار پھر حکام کی جانب سے گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں بھارت کا جموں و کشمیر میں حریت پسند جماعتوں کو آزادی کی سیاست سے دور کرنے کا منصوبہ بے نقاب
انہوں نے کہا کہ آج جامع مسجد میں منعقدہ مجلسِ رحمت اللعالمین ﷺ میں جید علمائے کرام شریک ہونا چاہتے تھے، لیکن اس موقع پر بھی انہیں حراست میں رکھا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کشمیری عوام کے انسانی اور سیاسی حقوق پہلے ہی سلب کیے جاچکے ہیں اور اب مذہبی معاملات میں بھی مسلسل مداخلت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کی مقبوضہ کشمیر میں ’جموں کشمیر اتحاد المسلمین‘ اور ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ پر پابندی کی مذمت
ان کے مطابق حضرت بل میں اشوکا تختی کے معاملے سے لے کر مسلم کیلنڈر کی تعطیلات میں ردوبدل تک، اور مساجد میں مذہبی اجتماعات کے انعقاد پر پابندی تک، ہر معاملے میں حکام رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
رہنما نے کہا کہ جامع مسجد کا منبر و محراب آئندہ بھی مذہبی امور میں مداخلت، عوامی حقوق کی خلاف ورزی اور لوگوں کو بااختیار بنانے کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔













