چلی میں سرجنز نے ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اے آئی اور روبوٹک ٹیکنالوجی کی مدد سے پتّے کا آپریشن انجام دیا۔ اس آپریشن میں پہلی بار ‘مارس پلیٹ فارم’ استعمال کیا گیا جو مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹک نظام کا امتزاج ہے۔
پیر کو کیے گئے اس آپریشن میں ایک روبوٹ نے مقناطیس تھام رکھا تھا جو مریض کے جسم کے اندر آلات کو حرکت دیتا رہا جبکہ دوسری بازو میں خودکار سرجیکل کیمرہ نصب تھا جسے مصنوعی ذہانت کنٹرول کر رہی تھی۔ یہ کیمرہ سرجن کی حرکات کو فالو کرتا ہے، خودکار طور پر زوم اِن اور زوم آؤٹ کرتا ہے اور بغیر کسی رکاوٹ کے واضح منظر فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ناسا نے سورج کی سرگرمیوں کی پیشگوئی کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لے لیا
عام طور پر اس قسم کی سرجری میں ایک معاون سرجن کیمرہ ایڈجسٹ کرتا ہے لیکن ‘مارس پلیٹ فارم’ کی بدولت سرجن خود ہاتھ یا پاؤں کی حرکت سے کیمرہ کنٹرول کر سکتے ہیں۔
کلینیکا لاس کونڈس کے سرجری ہیڈ ڈاکٹر ریکارڈو فنکے نے بتایا کہ یہ دنیا کا پہلا کیس ہے جس میں ہم نے مریض کے لیے محفوظ اور آزمودہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔ آج سے چند سال قبل یہ سوچنا بھی مشکل تھا کہ سرجری میں اے آئی ہماری روزمرہ کا حصہ بنے گا۔

چلیئن سوسائٹی آف بیریاٹرک اینڈ میٹابولک سرجری کے صدر ڈاکٹر ماتھیاس سیپولویڈا کے مطابق اس نئی تکنیک سے اضافی کٹ لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی جس کا مطلب ہے کہ مریض کو کم تکلیف ہوگی، تیزی سے صحت یاب ہوگا اور اسپتالوں کے اخراجات بھی کم ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: کم عمر بچوں کو لازمی کووڈ-19 ویکسین دی جائے، امریکی طبی ماہرین
یہ جدید ٹیکنالوجی لیویٹا میگنیٹکس نے تیار کی ہے، جو ایک چلی کی میڈیکل اسٹارٹ اپ ہے اور اب امریکا کے شہر ماؤنٹین ویو میں قائم ہے۔ کمپنی نے 2023 میں امریکی ایف ڈی اے سے اجازت حاصل کی تھی کہ اس پلیٹ فارم کو مختلف پیٹ کی سرجریز میں استعمال کیا جا سکے۔
کمپنی کے بانی ڈاکٹر البرٹو روڈریگیز نے کہا یہ سنگ میل صرف آغاز ہے۔ روبوٹس اور مصنوعی ذہانت مستقبل میں سرجری کے مختلف مراحل میں بڑھتا ہوا کردار ادا کریں گے، جس سے طریقۂ علاج مزید محفوظ، مؤثر اور مریضوں کے لیے بہتر نتائج فراہم کرے گا۔












