وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کشمور کا دورہ کرکے سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے بھی گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیا تھا، انہوں نے اس وقت وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ زرعی ایمرجنسی لگائیں، میں وزیراعظم کا ایمرجنسی لگانے پر شکرگزار ہوں۔
یہ بھی پڑھیے: ممکنہ سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے وفاق سے بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے متاثرین کو امداد دینے کا بھی کہا تھا، اس کے علاوہ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ریلیف کے کاموں میں حصہ ڈالنے کی اپیل کرنے کی تجویز دی تھی کیوں کہ عالمی طور پر ماحولیاتی بحران کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں ہے لیکن متاثر ہم ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ فوراً بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے سیلاب متاثرین کی امداد اور اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ریلیف کی اپیل کرے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ ساڑھے 6 سے 7 لاکھ کیوسک تک پانی سکھر بیراج سے گزر سکتا ہے، شکارپور اور کشمور میں موجود بند کے کمزور حصوں پر محکمہ آبپاشی کی مشینری موجود ہے، انشااللہ ہم خوش اسلوبی سے پانی سکھر بیراج سے گزاریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: سیلاب متاثرین کے لیے وفاق کو فوری فلیش اپیل کرنی چاہیے، وزیراعلیٰ سندھ
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اب تک دریا کے آس پاس کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے، کشمور میں 30 ہزار لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے، اس وقت تک اپنی تیاریوں سے مطمئن ہیں۔ 2010 سے اب تک دریا کے آس پاس بندوں کو اونچا کیا ہے۔
انہوں نے سندھ کے لوگوں، بالخصوص کچے کے علاقے کی آبادی اور متعلقہ سرکاری محکموں کا شکریہ ادا کیا اور سیلاب کا دلیری سے مقابلہ کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔














