پاکستان کا سب سے قیمتی نعرہ

پیر 15 ستمبر 2025
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اس ملک میں بہت نعرے لگائے گئے۔ بعض نے یوں بھی کہا کہ یہاں نعرے لگانے کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ ہر دور کے اپنے تقاضے اور  نعرے تھے۔ کوئی نعرہ تاریخ کی بساط پر زندہ رہتا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔ لیکن کسی نعرے کی قبولیت کو پرکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دیکھا جائے نعرہ کون لگا رہا ہے؟ کب لگا رہا ہے؟ کیسے لگا رہا ہے؟ کس وقت لگا رہا ہے؟ اور کس زمانے میں لگا رہا ہے؟ یہی عناصر فیصلہ کرتے ہیں کہ نعرہ زندہ رہا یا ردی کی ٹوکری کی نذرہو گیا۔

اپنے ہاں کچھ نعرے بے وقت لگے جس کی وجہ سے وہ وقت کے ساتھ اپنے معنی کھو گئے۔  جیسے ایوب خان کے دور میں ’سبز انقلاب‘ کا نعرہ لگا حالانکہ وہ زمانہ ’سرخ انقلاب‘ کا تھا۔اس وجہ سے ہمارا ’سبز انقلاب‘ اتنا معروف نہ ہو سکا ۔ ابھی ’سبز انقلاب‘ کی کامیابی کا جشن منایا ہی جا رہا تھا کہ ’سرخ انقلاب‘ ہمیں درپیش ہوا ۔ اس کے بعد نہ سبز انقلاب کا نعرہ رہا نہ نعرہ لگانے والے کا اقتدار ۔

کچھ نعرے صرف جذباتی ہوتے ہیں۔ جیسے بھٹو صاحب نے روٹی، کپڑے اور مکان  کا نعرہ لگایا۔ وہ خود وڈیرے تھے۔ وسیع جائیدادوں کے مالک تھے مگر غریب کے حق میں نعرہ لگانے سے نہ چوکتے تھے۔ انہوں نے سرخ انقلاب کا بھی خیر مقدم کیا اور سبز انقلاب کو بھی زندہ رکھا۔ اسلام ہمارا دین اور سوشلزم ہمارا نظام کا نعرہ بھی اس دور میں تخلیق ہوا۔ مزدور یونینز اور طلبا یونینز بھی اس زمانے میں نعرے لگاتی پھرتی تھیں۔ پھر انقلاب میں بتدریج سرخی کم اور ہرا رنگ زیادہ نمایاں رہنے لگا۔ سرخ انقلاب کے نعرے بھٹو صاحب کے ساتھ ہی پھانسی پر جھول گئے۔  غریب کو نہ کبھی روٹی میسر آئی نہ تن پر کپڑا نصیب ہوا نہ ان کے سر پر چھت ملی۔

کچھ نعرے اس وجہ سے وقعت کھو گئے کہ وہ  بین الاقوامی ضروریات کے تحت لگے۔  ضیاءالحق آئے تو نظام شریعت کا نعرہ لگا۔ افغان جہاد کا غلغلہ بلند ہوا۔ افغان، پاکستان بھائی بھائی کا نعرہ لگا۔ انصار اور مہاجرین کی مثالیں بیان کی گئیں۔ گیارہ سال ضیا الحق  کی حکومت رہی۔ اس زمانے میں کیا کیا ہوا۔ ملک بدل گیا، سماج بدل گیا، روس تباہ ہو گیا، امریکا اکلوتی سپر پاور رہ گیا۔ اس زمانے میں افغانستان  کو پانچواں صوبہ بنانا ہمارا خواب تھا۔ آج دیکھیں تو وہ خواب ایک بھیانک تعبیر بن چکا ہے۔

افغان جنہیں ہم نے اپنے گھروں، شہروں میں جگہ دی اب احسان فراموش بن چکے ہیں۔ وہ جو دشمن کے لیے کمانیں کھینچ کر بیٹھتے تھے، اب اپنے محسنوں کے ملک میں دھماکے کر رہے ہیں۔ کرنی خدا کی یہ ہوئی کہ ایک جہاز کا حادثہ ہوا پھر اس دور کا ہر نعرہ بھی ایک مسجد کے احاطے میں دفن ہو گیا۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اس دور کا نعرہ لگانا تو کجا اب کوئی مزار پر دعا کرنے بھی نہیں جاتا۔

کچھ نعرے صرف سیاسی مخاصمت میں لگے۔ ایک ایسا دور آیا کہ  دو، دو دفعہ سیاستدانوں کو سیاستدانوں کی ہی تذلیل کے نعرے لگانے پڑے۔ نواز شریف اور بے نظیر کی حکومت کو دو، دو باریاں ملیں دونوں نے خوب ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے۔ ایک نے دوسرے پر مقدموں کی فائلیں کھلوائیں تو دوسرے نے کرپشن کا الزام لگایا۔ اسمبلی مچھلی بازار بن گئی۔ ایک دوسرے کے خلاف ایسے ایسے نعرے لگائے کہ خدا کی پناہ۔ نہ عورت ذات کا لحاظ رہا نہ پنجاب کی پگ سلامت رہی۔

ہر 2 سال کے بعد صدر مملکت کو کرپشن کے کیس نظر آتے اور اسمبلی تڑک کر کے ٹوٹ جاتی۔ اسی زمانے میں نواز شریف نے پنجاب بینک کا نعرہ لگایا۔ موٹر وے کا نعرہ لگایا۔ پیپلز پارِٹی کی حکومت میں یہ بھی نہیں ہوا وہ حکومتیں صرف نعروں تک محدود رہیں۔ اور لڑائی اس قدر بڑھی کی جنرل مشرف کو مجبوراً اقتدار میں آنا پڑا۔ ان کی آمد کے ساتھ ہی دو، دو باریاں لینے والوں کے سب  نفرت انگیز نعرے تاریخ میں دفن ہو گئے۔

کچھ نعرے بین الاقوامی مصلحتوں کو مدنظررکھ کر لگے۔ جنرل مشرف نے  روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا نعرہ اکھٹے ہی لگا دیا۔ اپنے پالتو کتوں کےساتھ  ہاتھ میں گلاس تھام کر تصویر بھی کھنچوائی۔ ان کی کوشش تھی کہ ماضی کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے۔ وہ جو افغان جنگ ہوئی تھی اس کے مضمرات کو کھرچ دیا جائے۔ اسی اثنا میں نائن الیون بھی ہوگیا۔

جنرل صاحب کے اقتدار کو مہمیز بھی ملی اور ہم نے خارجہ اور داخلہ کی سطح پر  ایک تاریخی یوٹرن بھی لیا۔ المیہ یہ ہوا کہ قوم نے اس یو ٹرن میں جنرل صاحب کا ساتھ نہیں دیا۔ قوم وہیں کھڑی رہی اور جنرل صاحب، پہلے صدر بنے پھر دوبئی چلے گئے اور پھر دنیا سے چلے گئے مگر اس دور کا کوئی نعرہ اب کسی کو یاد نہیں۔ اب نہ ہم روشن خیال رہے نہ اعتدال پسند۔

کچھ نعرے آئینی بھی لگے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اٹھارہوں ترمیم کا نعرہ لگایا۔ صوبوں کے حق کی بات کی۔ وسائل کی تقسیم کا نعرہ لگایا۔ وسائل بھی تقسیم ہوگئے اور صوبے بھی خود انحصار ہو گئے مگر وفاق غریب ہوگیا۔ اتنا غریب کہ اس دور میں لوڈ شیڈنگ کے سوا  کوئی نعرہ نہیں بچا۔ میاں صاحب اقتدار میں آئے تو نعرہ دوسری جانب سے لگا۔ آواز کرپشن کی آئی اور نتیجہ پاناما کی صورت میں نکلا۔ اقتدار بھی گیا اور عزت بھی۔

 کارکردگی کا نعرہ فیل ہو گیا کیونکہ عمران خان کا آنا ٹھیر گیا تھا۔ پھر خان صاحب نے ہر وہ نعرہ لگایا جو ان کے حق میں تھا لیکن جب بڑوں کا  لاڈ پیار ختم ہوا تو پھر خان صاحب نے جو نعرے لگائے وہ سماعتوں پر بہت گراں گزرے۔  قصہ مختصر غلامی سے آزادی کا نعرہ لگانے والا آج کل  قید میں ہے اور قوم کو وہ نعرہ نہیں بس 9 مئی یاد ہے۔

کچھ نعرے جبر کی حالت میں بھی لگے۔ زبردستی لگوائے گئے۔  ہم نے یہ بھی دیکھا کہ وہ بستیاں جہاں سیلاب کے بعد موت پانی پر ناچ رہی تھی۔ لاشیں دریا برد ہو رہی تھیں،  وہاں لیڈروں کے زندہ باد کے نعرے بھی لگے۔ وہ تو غنیمت ہوئی کسی کا دھیان نہیں گیا ورنہ ظالموں نے ہر تابوت پر بھی اپنی تصویر چھپوا دینی تھی۔

پاکستانی تاریخ کے مختصر سفر میں ان میں سے کوئی نعرہ دوام حاصل نہیں کر سکا۔ اپنے اپنے دور میں مقبول رہنے والے سب نعروں پر وقت کی گرد پڑتی رہی۔ سب نعرے دھول ہوئے۔

 ہاں کچھ نعرے دلیری، شجاعت  کے بھی لگے۔ یہ نعرے ایک جنازے پر لگے۔ جنازہ، نعرے لگانے والے کے 31 سالہ شیر جوان بیٹے میجر عدنان شہید  کا تھا۔ جس کے جسد پر اس کی خاکی وردی رکھی تھی اور تابوت سبز پرچم اوڑھے ہوئے تھا۔  نعرے لگانے والا شہید کا باپ تھا جو بیساکھی کی مدد سے جنازے کے آگے چل رہا تھا۔  نہ اس کی آنکھ میں آنسو تھے نہ آواز میں لرزہ تھا۔ جوان بیٹے کی میت سنبھالے اس کی زبان پر بس ایک ہی نعرہ تھا۔

پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد۔

اس نے اس شدت سے یہ  نعرہ لگایا  کہ زمیں بھی کانپ گئی،  فلک بھی تھرا گیا۔ ایک باپ کی بہادری اور ایک شہید بیٹے کی دلیری نے اس لمحے کو ،اس نعرے کو دوام بخش دیا۔ یہ وہ نعرہ تھا جو کبھی وقت کی گرد میں گم نہیں ہوگا۔ جب تک اس نعرے کی گونج ہماری یادداشت میں باقی رہے گی، یہ وطن محفوظ رہے گا۔ یہ جذبہ  سلامت رہے گا، یہ وطن بھی سلامت رہے گا۔

ماضی کے ہر نعرے کی قیمت تھی لیکن یہ نعرہ انمول تھا۔ اس ایک نعرے کی قیمت پوری قوم  بھی نہیں چکا سکتی۔ یہ سب سے قیمتی نعرہ تھا۔ یہ ہماری بقا کا استعارہ تھا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف کا دشمنوں کو سخت انتباہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی کے خلاف پھر نعرے، احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟