اقوام متحدہ میں پرتگال کے مستقل مشن کے ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ پاولُو رانژیل نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ ملک نے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا پرتگالی خارجہ پالیسی کی ایک بنیادی اور مستقل ترجیح کا عملی اظہار ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کا برطانیہ، آسٹریلیا اور پرتگال کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم
پاولُو رانژیل نے زور دیا کہ پرتگال دو ریاستی حل کو ہی منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حماس کو غزہ یا اس کے باہر کسی بھی طرح کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا غزہ میں جاری انسانی المیے کو ختم نہیں کرتا۔ انہوں نے وہاں بھوک، تباہی اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے پھیلاؤ کی مذمت کی۔
واضح رہے کہ اس سے کچھ دیر قبل برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر اسرائیل کا شدید ردعمل
برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطین کو ایک خودمختار اور آزاد ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کر لیا ہے۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے یہ اعلان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل سے متعلق اہم کانفرنس کے موقع پر کیا، یہ اقدام برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ سامنے آیا۔














