بوئنگ اور پیلنٹیئر کا دفاعی پیداوار میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر اشتراک

بدھ 24 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مایہ ناز ایرو اسپیس کمپنی بوئنگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی بڑی پروڈکشن لائنز کو ہموار کرنے کے لیے پیلنٹیئر کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ’فاؤنڈری‘ پلیٹ فارم استعمال کرے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بوئنگ اور پیلنٹیئر کے اشتراک سے امریکی دفاع، خلائی اور سیکیورٹی شعبے کو فائدہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر جاری، لاگت کتنی؟

بوئنگ اور پیلنٹیئر نے منگل کو اپنے تعاون کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے فوجی طیاروں، ہیلی کاپٹروں، سیٹلائٹس، خلائی جہازوں، میزائلوں اور اسلحہ جاتی نظام کی تیاری میں بہتری آئے گی۔

بوئنگ ڈیفنس، اسپیس اینڈ سیکیورٹی کے چیف ایگزیکٹیو اسٹیو پارکر نے کہا کہ پیلنٹیئر مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لانے میں سب سے آگے ہے تاکہ اہم مصنوعات، خدمات اور صلاحیتیں فوجی آپریٹرز تک تیزی سے پہنچ سکیں۔

’یہ تعاون ایک فطری امتزاج ہے جو دو بڑی کمپنیوں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھا کرتا ہے یعنی دنیا بھر میں آزادی کے تحفظ کے لیے یونیفارم میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کی مدد کرنا۔‘

مزید پڑھیں: چین کا امریکی بوئنگ طیاروں کی خریداری پر پابندی کا اعلان

امریکی ریاست کولاراڈو کے شہر ڈینور میں قائم پیلنٹیئر بوئنگ کو مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور صلاحیتیں فراہم کرے گی تاکہ حساس اور خفیہ منصوبوں میں فوجی صارفین کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

پیلنٹیئر کے سربراہِ دفاع مائیک گیلاگر نے کہا کہ یہ اشتراک بوئنگ اور پیلنٹیئر کو ایسی فوجی صلاحیتیں فراہم کرنے میں مدد دے گا جو امریکا کو مؤثر انداز میں تنازعات کو روکنے اور قوم کے دفاع کے قابل بنائیں گی۔

’یہ پارٹنرشپ پیداوار اور جدت میں اضافہ کرے گی، جس سے موجودہ اور آئندہ نسل کے دفاعی پروگراموں میں جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جا سکے گی، امریکا کے دشمن سست روی اختیار نہیں کر رہے، اس لیے ہم بھی پیچھے نہیں رہ سکتے۔‘

یاد رہے کہ اگست میں پیلنٹیئر نے امریکی فوج کی تیاری کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے بہتر بنانے کے لیے 10 ارب ڈالر مالیت کا 10 سالہ کنٹریکٹ حاصل کیا تھا۔

مزید پڑھیں: چینی طیارہ ساز کمپنی میدان میں آگئی، کیا ایئربس اور بوئنگ کا خاتمہ قریب ہے؟

اس سے قبل مئی میں وفاقی ہوم مارگیج فرم فینی مے نے بھی پیلنٹیئر سے مصنوعی ذہانت پر مبنی یونٹ بنانے کا معاہدہ کیا تھا تاکہ مارگیج فراڈ کو روکا جا سکے۔

واضح رہے کہ پیلنٹیئر کمپنی ریئل ٹائم میں فوری اور درست فیصلے کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر تیار کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بنگلہ دیش کے خلاف کونسے 2 کھلاڑی ڈیبیو کررہے ہیں؟ کپتان شاہین آفریدی نے اعلان کردیا

تقریباً 25 کروڑ لیٹر پیٹرول پاکستان پہنچ گیا، مزید درآمدی جہاز کی آمد متوقع

بنگلہ دیش: انسانیت کیخلاف جرائم کے مقدمے میں سیاستدان سے ضمانت کے بدلے رشوت مانگے جانے کا انکشاف

کفایت شعاری کے لیے وزیراعظم کے اعلانات، قومی خزانے کو کتنی بچت ہوگی؟

سونا مہنگا ہو گیا، قیمت میں کتنا اضافہ ہوا؟

ویڈیو

لاہور میں ملک کی پہلی سمارٹ روڈ روٹ 47 کی خصوصیات کیا ہیں؟

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟