وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سپریم کورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات کو وکلا کے سامنے رکھنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ حقائق ایسے ہیں جنہیں کیمروں کے سامنے بیان کرنا ممکن نہیں۔
نواب خیر بخش مری، آزاد بلوچستان کا بیانیہ اور شدت پسندی کی لہر
سرفراز بگٹی نے کہا کہ نواب خیر بخش مری کو افغانستان سے واپس لایا گیا اور ان کی واپسی پر بلوچستان میں پہلے دن ہی پاکستان کا جھنڈا جلایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان اسمبلی میں مائینز اینڈ منرل ایکٹ دوبارہ پیش کیا جائے گا، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی
ان کے مطابق نواب مری نے آزاد بلوچستان کا بیانیہ رکھا جبکہ نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کے بعد شدت پسندی کی نئی لہر اٹھی۔ جسٹس نواز مری پر حملہ اور قتل آج بھی بلوچوں کو یاد ہے اور کوہِ مردار سے کوئٹہ شہر کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ریاستی مذاکرات، بالاج مری کی واپسی اور الیکشن
انہوں نے بتایا کہ نواب خیر بخش مری کے ساتھ جیل میں مذاکرات ہوئے اور انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا۔ ان کے بیٹے بالاج مری کو انگلینڈ سے لا کر 2002 کا الیکشن جتوایا گیا جہاں انہوں نے وطن سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ججز گیٹ سے سپریم کورٹ پہنچ گیے ۔۔ صدر سپریم کورٹ روف عطا اور ان کے ساتھی وکلا نے انکا استقبال کیا pic.twitter.com/wKwXYQ2vUv
— Ahsan Wahid (@AhsanWahid13) September 24, 2025
تاہم دہشتگردی کے واقعات نے ریاست کو نقصان پہنچایا اور کئی لوگ دوبارہ کیمپس میں شامل ہو گئے۔
ریاست کا مؤقف اور سخت پیغام
سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کو قانون کے مطابق جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کرنا ظلم قرار دیا اور کہا کہ اگر بی ایل اے نے کوئی ترقیاتی کام کیا ہے تو حکومت اسے مزید بہتر کرے گی، لیکن جو لوگ تشدد کے ذریعے ریاست توڑنے کی کوشش کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
احتجاج کا حق، لیکن حدود کے ساتھ
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر شہری کو آئین کے تحت احتجاج کا حق ہے، مگر سڑکیں بند کرنا یا ایمبولینس میں مریض کو مرنے دینا ظلم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگردی کسی صورت قابل قبول نہیں، بلوچستان کے عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
پنجابی فیملی پر حملے کو انہوں نے انسانیت سوز قرار دیا اور کہا کہ بلوچستان کے وکلا پر حملوں نے ریاست اور معاشرے دونوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان کا جھنڈا اور علیحدگی کی تحریکیں
سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا اتار کر آزاد بلوچستان کا جھنڈا لگانا ناقابل برداشت ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اپنی سڑکوں پر علیحدگی کی تحریکوں کی اجازت نہیں دیتا۔
ان کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کی لاشوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنا گمراہ کن عمل ہے۔
میڈیا کا کردار اور بلوچستان کی اصل تصویر
انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کردار بلوچستان میں انتہائی اہم ہے کیونکہ وہاں صحافت بہت مشکل ہے۔ پاکستان کا میڈیا ہمیشہ مظلوم اور محکوم طبقے کی آواز بنا ہے۔ بگٹی کے مطابق بلوچستان کے مسائل اور ان کے حل آپس میں جڑے ہیں اور اصل تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا سپریم کورٹ بار کے لیے 10 کروڑ کا اعلان
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سپریم کورٹ بار کے لیے دس کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسنز پر سیاست کرنے والوں کو صوبے کی پسماندگی میں فائدہ ہے، مگر ہماری حکومت پہلی ہے جس نے اس مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست پر الزامات ختم کرنے کے لیے قانون میں واضح ترامیم کی گئی ہیں اور اب کسی کو شک کی بنیاد پر حراست میں لینے کے بعد لازمی طور پر قانونی کارروائی ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حراست میں لیے گئے ہر شخص کا ہفتہ وار میڈیکل چیک اپ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ ریاستی اداروں کو مؤثر قانونی ٹولز فراہم کر دیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے وعدہ کیا کہ دسمبر تک بلوچستان میں ایک بھی اسکول بند نہیں ہوگا۔
وکلا کی سیکیورٹی اور سہولیات ترجیحی بنیادوں پر ہونی چاہئیں، احسن بھون
تقریب سے سابق صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کو امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا اپنے آبائی علاقے بیکڑ کا دورہ
ان کے مطابق سیاست کے ساتھ ساتھ وکلا کو سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے وکلا کی سیکیورٹی اور ویلفیئر کے منصوبوں کو فوری طور پر شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔













