بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما ماہرنگ بلوچ کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی نے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ بلوچ کا بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کی مذمت سے دوٹوک انکار
ناروے کے سیاستدان اور نوبل کمیٹی کے چیئرمین یورگن واٹنے فریڈنس (Jørgen Watne Frydnes) نے مئی 2024 میں مہرنگ بلوچ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا، جس کے بعد ان کے بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) سے مبینہ روابط اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ویڈیو میں بے جوابی مؤقف
ناروے میں PEN Norway کے ایک پروگرام کے دوران، ماہرنگ بلوچ سے سخت سوالات کیے گئے، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس دوران دیگر BLA سرگرم کارکن، خاص طور پر خود ساختہ جلاوطنی میں موجود ، کیا بلوچ (Kiyya Baloch) سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے رہے۔

اس موقع پر یورگن واٹنے فریڈنس (Jørgen Watne Frydnes) نے ہال خالی کرنے کا بہانہ بنایا اور مہرنگ کو سوالات کے دباؤ سے نکال لیا، جس سے ان کے مہرنگ کے ساتھ تعلقات اور ان کے مؤقف پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔
کیا بلوچ اور ’را‘ کا تعلق
تحقیقات کے مطابق ’کیا بلوچ‘، اسرائیل سے منسلک تھنک ٹینک (MEMRI) کے لیے کام کرتا اور بلوچستان اسٹوڈینٹس پروجیکٹ چلاتا ہے، جو ’را‘ کے معاون حلقوں اور نوبل لابی کے درمیان رابطہ کا کردار ادا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ بلوچ جس کی حمایت میں نکلیں وہی صہیب بلوچ دہشتگردوں کا ’ہیرو‘ نکلا
بی ایل اے کی عسکریت پسندی کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ذریعے انسانی حقوق کی سرگرمی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس سے دہشتگردانہ کارروائیوں کو قانونی اور بین الاقوامی توثیق حاصل ہوتی ہے۔
نوبل نامزدگی پر عالمی تنقید
ناقدین کا کہنا ہے کہ مہرنگ بلوچ کی نامزدگی پرتشدد عسکریت پسندی کو بالواسطہ سیاسی اور بین الاقوامی کور فراہم کر سکتی ہے۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ انسانی حقوق کی وکالت ہے یا علیحدگی پسند ایجنڈوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرانے کی کوشش؟
ٹائم لائن اور تعلقات
فروری 2024: Jørgen Frydnes نوبل کمیٹی کے چیئر بنے۔
مئی 2024: مہرنگ بلوچ ناروے کا دورہ، PEN Norway کے ذریعے لابی شروع۔
مارچ 2025: جلاوطن صحافی Kiyya Baloch نے نامزدگی کی تفصیلات لیک کیں۔ا
پاکستان کی 2020 UN ڈوسیر کے مطابق RAW اور BLA کے تعلقات منظرعام پر آئے۔
ماہرنگ بلوچ کی نامزدگی انسانی حقوق سے زیادہ ایک RAW کے زیر اثر پروپیگنڈا پروجیکٹ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس میں عسکریت پسندی کو انسانی حقوق کی پرت میں لپیٹ کر بین الاقوامی سطح پر پیش کیا جا رہا ہے۔














