ترکیہ: طیب اردوان اور کمال کچلدار 28 مئی کو دوبارہ مد مقابل ہوں گے

پیر 15 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں رجب طیب اردوان سمیت کسی بھی امیدوار کو مطلوبہ ووٹ نہ مل سکنے کے سبب ترک الیکشن کونسل نے ’رن آف ووٹ‘ کا اعلان کر دیا جس کے تحت رجب طیب ایردوان اور کلچدار اوغلو 28 مئی کو دوبارہ صدر کے عہدے کے لیے ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔

ترکیہ کے الیکشن قوانین کے مطابق صدر کے عہدے کے لیے ہونے والے انتخابات میں اگر کوئی بھی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکے تو آئین کے مطابق ’رن آف ووٹ‘ یعنی صدارت کے لیے دوبارہ الیکشن ہوتے ہیں۔

الیکشن کونسل کے چیف احمد ینرنے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں  ٹرن آوٹ 88.8 رہنے کے باوجود کسی بھی امیدوار نے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کیے جس کے نتیجے میں اب ترکیہ میں صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔

احمد ینر نے سرکاری نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ کے اعلیٰ عہدے (صدر) کے لیے انتخابات ’رن آف ووٹ‘ پر چلے گئے ہیں۔

کونسل کے چیف نے مزید بتایا کہ صدر رجب طیب ایردوان نے اتوار کوترکی میں ہونے والے عام صدارتی انتخابات میں  49.5 فیصد ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے اہم حریف کمال کلچدار اوغلو نے 44.89 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

چوں کہ دونوں صدارتی امیدواروں کی جانب سے کسی نے بھی 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کیے اس لیے اب ان دونوں امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ 28 مئی کو دوسرے مرحلے میں ہوگا۔

واضح رہے کہ یہ تیسرا موقع ہے جب ترکیہ عوام نے براہ راست صدر کے لیے ووٹ دیے ہیں، ایردوان نے اس سے قبل صدر کے لیے ہونے والے 3 انتخابات مکمل طور پر جیتے تھے۔

ترکیہ کے ’اے ٹی اے الائنس‘  کے تیسرے امیدوار سینان اوگن نے 5.17 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ہوم لینڈ پارٹی کے محرم اینس انتخابات سے صرف 3 دن قبل اس دوڑ سے دستبردار ہو گئے تھے لیکن بیلٹ پیپر پر ان کا نام برقرار تھا۔ انہوں نے 0.44 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اوگن صدارتی انتخابات کو ’رن آف ووٹ‘ کی جانب لے جانے کی اصل وجہ ثابت ہوئے ہیں کیوں کہ انہیں ملنے والے ووٹ اگر ان دونوں امیدواروں میں سے کسی ایک کو پڑجاتے تو ترکیہ’ رن آف ووٹ‘ سے بچ جاتا۔

الیکشن مہم کے لیے دو ہفتے ایک طویل وقت ہوتا ہے اس دوران بہترین حکمت عملی اور انتخابی مہم کے ذریعے رجب طیب ایردوان یا کمال کلچدار میں سے کوئی بھی اپنے حق میں پانسہ پلٹ سکتا ہے۔

ادھر ’ترکیہ‘ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ابتدائی نتائج شائع کیے ہیں جن کے مطابق رجب طیب اردوان کی ’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ‘(اے کے پارٹی) پارٹی نے 266 نشستیں حاصل کر کے پارلیمنٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے جب کہ حزب اختلاف کے مرکزی رہنما کمال کلچدار اوغلو کی ’ریپبلکن پیپلز پارٹی‘ (سی ایچ پی) نے 600 نشستوں والی پارلیمنٹ میں 166 نشستیں حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔

واضح رہے کہ ترکیہ میں عام انتخابات ایک ایسے وقت کرائے گئے جب ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے۔  اکتوبر میں افراط زر کی شرح 85 فیصد تک پہنچ گئی ادھر فروری میں آنے والے زلزلوں سے ملک میں 50 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔ ان عوامل نے حکومت کرنے والی ’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘ (اے کے پارٹی) کو الیکشن میں زبردست دھچکا پہنچایا۔

ریپبلکن پیپلز پارٹی ملک کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے قائم کی تھی جس نے 27 سال تک ایک جماعتی نظام کے تحت ملک پر حکومت کی۔

اس وقت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے رہنما کچلداراوغلو کے 6 جماعتی قومی اتحاد نے 2017 کے ریفرنڈم میں بھی ایگزیکٹو صدارتی نظام کو ختم کرنے کا نعرہ لگایا تھا۔ اس وقت حزب اختلاف کے اس اتحاد نے عدلیہ اور مرکزی بینک کی آزادی کو بحال کرنے اور ایردوان پر آزادی اظہار اور اختلاف رائے کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزامات لگاتےہوئے بھرپور مہم چلانے کے علاوہ عوام سے ان قوانین کو ختم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

دوسری جانب حالیہ برسوں میں طیب ایردوان حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیے کانٹا بن کر ابھرے ہیں، انہوں نے اپنی زبردست پالیسیوں کے تحت ترکیہ کے نظام کو ہی بدل کررکھ دیا۔ 3 بار صدارتی انتخابات جیتنے والے طیب ایردوان کو اس وقت ترکیہ میں کامیاب ترین سیاستدان قرار دیا جا رہا ہے۔

طیب اردوان ایک تھکا دینے والی مہم کے دوران اکثر ایک دن میں متعدد ریلیوں سے خطاب کرتے تھے۔ وہ ’ترکیہ‘ میں اپنے 20 سالہ دورِ حکومت میں ہونے والی ترقی کو اجاگر کرتے اور ساتھ ہی ساتھ حزبِ اختلاف پر ‘دہشت گردی’ کی حمایت کرنے یا مغرب کے غلام ہونے کی تنقید بھی کرتے رہے۔

کلچدار اوغلو جنہوں نے 2010 میں پارٹی کی قیادت سنبھالی، انہوں نے ’سی ایچ پی‘کو مزید سماجی اورجمہوری راستے پر گامزن کیا ہے۔

رجب طیب اردوان اور کلچدار اوغلو دونوں نے ووٹروں تک اپنے پیغامات پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپوراستعمال کیا۔ کچلدار اوغلو نے انقرہ میں اپنے گھر پر ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے فلمائی گئی ٹویٹر ویڈیوز کا خوب استعمال کیا۔

ترکیہ کے 600 کے پارلیمنٹ کے لیے ہونے والے الیکشن مجموعی طور پر پرامن رہے تاہم الیکشن سے ایک ہفتہ قبل ملک کے مشرق شہر ایرزورم میں استنبول کے میئر اکرم اماموجلو کی ریلی پر کچھ لوگوں نے پتھراؤ کیا۔

ووٹنگ بڑی حد تک پرامن رہی کچھ ووٹرز مقامی لباس میں ووٹ ڈالے اور کچھ لوگ گھوڑے پر سوار ہو کر ووٹ دینے کے لیے پہنچے۔ تاہم حریف جماعتوں کے انتخابی مبصرین کے درمیان ہاتھا پائی اور کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر بیلٹ پیپرز میں دھاندلی کے الزامات کے واقعات بھی رونما ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟