ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی ڈیڈلائن میں توسیع نہیں ہورہی، ایف بی آر نے وضاحتی بیان جاری کردیا

پیر 29 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ ٹیکس سال 2025 کے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہی مقرر ہے اور اس میں کسی قسم کی توسیع نہیں کی گئی۔

ایف بی آر کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے سیلاب کو بنیاد بنا کر تاریخ بڑھانے کی خبریں بے بنیاد ہیں، کیونکہ زیادہ تر ٹیکس دہندگان غیر متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 35 لاکھ 80 ہزار ہوگئی: ایف بی آر

ادارے نے واضح کیا کہ آئرس سسٹم مکمل طور پر فعال ہے اور ریٹرنز باآسانی جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

ترجمان ایف بی آر نے کہا کہ جو ٹیکس دہندگان مقررہ تاریخ تک ریٹرنز جمع نہیں کرائیں گے انہیں لیٹ فائلر قرار دیا جائے گا، جبکہ تاخیر کی صورت میں قانون کے مطابق جرمانے بھی عائد ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر خفیہ دولت کی تلاش کے لیے کونسے نئے طریقے اپنا رہا ہے؟

ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر درست اور ایمانداری سے ریٹرنز جمع کرائیں۔

ادارے کے مطابق صرف انتہائی مجبوری کی صورت میں واجب الادا ٹیکس ادا کرنے کے بعد 15 دن کی توسیع حاصل کی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں

پاکستان کی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن دستوں پر حملوں کی مذمت، جنگی جرم قرار

ٹرمپ کا ایران جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

بنگلہ دیش: بی این پی رہنما الیاس علی کے لاپتا ہونے کے معاملے میں نئے انکشافات، سابق حکومت پر سنگین الزامات

انڈونیشیا میں 7.8 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خطرہ جاری

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟