سیاسی کشیدگی: مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے پر اتفاق

بدھ 1 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان حالیہ دنوں میں بڑھنے والی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر دونوں جماعتوں کے سینیئر رہنماؤں کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا۔

ملاقات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں ہوئی، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سینیٹر رانا ثنااللہ اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شرکت کی، جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: آپ ہماری بہن اور بیٹی ہیں، اپنا لہجہ درست کریں، قمر زمان کائرہ کا مریم نواز کو مشورہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس موقع پر نوید قمر نے اسحاق ڈار کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز تک یہ پیغام پہنچایا کہ انہیں اپنے بیانات میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے رانا ثنااللہ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر سخت زبان استعمال کی گئی تو جواب بھی اسی انداز میں دیا جائے گا۔

دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے باہمی مسائل کو افہام و تفہیم اور سنجیدہ مشاورت کے ذریعے حل کرنے پر مکمل اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تلخ بیانات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر رہنماؤں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال کیا جانا چاہیے، اور وفاقی حکومت کی اس ضمن میں غفلت افسوسناک ہے۔

پیپلز پارٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ حکومت کو عالمی سطح پر سیلاب متاثرین کے لیے امداد کی اپیل کرنی چاہیے۔

اس کے ردعمل میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران پیپلز پارٹی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیصل آباد میں ایک خطاب کے دوران کہاکہ انہیں عوام کی خدمت کے لیے کسی کی منظوری کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں ہے، اور اب بھیک مانگنے کی سیاست ختم ہونی چاہیے۔

مریم نواز نے مزید کہاکہ جب پنجاب اپنے حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو دوسروں کو تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ اگر پنجاب اپنے حصے کا پانی اور وسائل حاصل کرنا چاہے تو اس پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: ہر چیز کا علاج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں، اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں، وزیراعلیٰ مریم نواز

انہوں نے کہاکہ سیلاب متاثرین کی مدد کو متنازع بنانے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے، اور پنجاب کے عوام کو ان کا حق دلانے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان

امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

ویڈیو

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

ٹھیلے سے ریسٹورنٹ تک، سوشل میڈیا کے بل بوتے پر کامیابی کی انوکھی کہانی

’باادب بامراد‘: شاگردوں کا استاد کے لیے بے مثال احترام، گاڑی بطور تحفہ پیش کردی

کالم / تجزیہ

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘

تحریک انصاف کا دشمن کون؟