وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ غزہ اس وقت ایک قبرستان بن چکا ہے جہاں انسانیت دم توڑ رہی ہے اور عالمی برادری امن قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپی یونین، عرب ممالک اور حتیٰ کہ اقوام متحدہ بھی فلسطین میں امن بحال کرنے میں کوئی کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے غزہ کے مسئلے کے حل کے لیے اہم نکات پیش کیے اور ان سے جنگ بندی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ: نیتن یاہو کی حمایت حاصل، حماس کی منظوری باقی
انہوں نے کہا کہ غزہ میں امن قائم کرنے میں اقوام متحدہ کی مکمل طور پر ناکامی کے تناظر میں 8 ملکوں کی جانب سے ایک ڈرافٹ تیار کیا گیا، جس میں جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے حوالے سے تجاویز شامل تھیں، بعض ممالک نے اس ڈرافٹ پر دستخط کرنے کی بھی تجویز دی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہفتے کو بتایا گیا کہ امریکا نے بھی ایک علیحدہ ڈرافٹ تیار کیا ہے، جو پیر کو باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔
اس ڈرافٹ میں 20 نکات شامل تھے جن میں فوری جنگ بندی، متاثرین کو خوراک و ادویات کی فراہمی، امدادی راہداریوں کے قیام اور جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو جیسے اقدامات تجویز کیے گئے۔
مزید پڑھیں:فلسطین سے متعلق پاکستان کی پالیسی واضح، غزہ امن منصوبے پر سیاست نہ کی جائے، اسحاق ڈار
وزیر خارجہ نے کہا کہ ان معاملات پر اتفاقِ رائے کے بعد طے کیا گیا کہ ایک مشترکہ بیان جاری کیا جائے، جسے رات ایک بجے حتمی شکل دے دی گئی۔
غزہ کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مغربی کنارہ غزہ کا حصہ ہوگا، انہوں نے بتایا کہ اسلامی ممالک کے رہنماؤں اور صدر ٹرمپ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی تھی تاہم ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکات امریکا کے ہیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق دفتر خارجہ کی بریفنگ میں یہ بات صاف کردی گئی ہے کہ پاکستان اور اس کے اتحادی ممالک نے جو ڈرافٹ تیار کیا تھا، اس میں ترامیم کر کے یہ نکات شامل کیے گئے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ یکطرفہ اور ناقابلِ عمل، بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، خواجہ سعد رفیق
فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی وہی ہے جو بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آزاد فلسطین چاہتا ہے جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، اور خوش آئند بات یہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی سمیت کئی ممالک نے مذاکراتی نکات کو مثبت قرار دیا ہے۔
اس دوران پی ٹی آئی کے ارکان نے شمع جونیجو کے معاملے پر بات کرنے کا مطالبہ کیا تو اسحاق ڈار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بجلی کے کھمبے بھی لگے ہیں لیکن آپ کو شمع ہی نظر آتی ہے۔
مزید پڑھیں: فوجی آپریشن کی آڑ میں غزہ پر قبضے کی تیاری، اسرائیل کا نیا منصوبہ سامنے آگیا
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی تقریر لکھنے والوں اور دیگر افراد میں شمع جونیجو شامل تھیں، تاہم ان کا نام ان افراد میں شامل نہیں تھا جن کے نام انہوں نے بھیجے تھے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ شمع جونیجو نے ایک غیر ذمے دارانہ بات کی جو انہیں نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
اپنی تقریر میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی میں چین کو منفرد مقام حاصل ہے، جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نہ صرف گہرے ہیں بلکہ ہمیشہ قائم رہیں گے۔
مزید پڑھیں:غزہ انسانیت اور عالمی ضمیر کا قبرستان بن چکا ہے، اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل میں خطاب
اسحاق ڈار کے مطابق اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، انہوں نے بتایا کہ 1989 کے سعودی عرب کے واقعے میں پاکستان کا اہم کردار تھا اور وہ خود اس موقع پر موجود تھے۔
انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی ناگزیر ہے اور پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انسانی المیے کو ختم کرنے اور علاقے کی تعمیر نو کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
وزیر خارجہ نے ایوان میں اپنے اظہارِ خیال میں زور دیا کہ مذاکرات ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہیں اور تمام تنازعات افہام و تفہیم سے حل کیے جاسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نیویارک: اسحاق ڈار کا او آئی سی اجلاس سے خطاب، سیرتِ نبویؐ امن و رواداری کی بنیاد قرار
انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اسحاق ڈار نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے کشمیر اور فلسطین کے مقدمے کو بھرپور طریقے سے پیش کیا اور کھل کر اسرائیل کا نام لیتے ہوئے مذمت کی۔
ان کے بقول وزیر اعظم کی تقریر کو سب سے زیادہ دیکھا گیا اور دنیا بھر میں پذیرائی ملی۔
مزید پڑھیں: نیتن یاہو کے کہنے پر غزہ امن منصوبے میں اہم تبدیلی، عرب ممالک ناراض، رپورٹ میں انکشاف
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ غزہ میں لاکھوں افراد خوراک اور ادویات کی کمی کے باعث جان کی بازی ہار رہے ہیں، جو عالمی ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے ایوان میں واپسی پر اپنے دوستوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔












