امریکا میں اینگلیکن چرچ کے آرچ بشپ ڈاکٹر فولی بیچ نے صدر چرچ آف پاکستان بشپ آزاد مارشل کے ہمراہ گرینڈ جامع مسجد بحریہ ٹاؤن لاہور کا دورہ کیا جہاں ان کا پرتپاک استقبال چیئرمین پاکستان علماء کونسل و کوآرڈینیٹر قومی پیغام امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور دیگر علمائے کرام و مشائخ نے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم سربراہان کے اصرار پر غزہ مسئلے کا حل نکلا، پورے معاملے میں سعودی عرب اور پاکستان کا کردار کلیدی تھا، حافظ طاہر اشرفی
اس موقعے پر ہونے والی بین المذاہب ملاقات کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’تمام آسمانی مذاہب امن، محبت اور رواداری کا درس دیتے ہیں۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات بھی انسانیت، امن اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو دنیا میں امن کے قیام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا‘۔
قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کا کوئی مذہب سے تعلق نہیں۔ ایسے عناصر صرف دہشت گرد اور انتہا پسند ہیں اور کسی مذہب کی نمائندگی نہیں کرتے۔
اعلامیے میں فلسطین میں جاری صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
پاکستان خوبصورت لوگوں کا خوبصورت ملک ہے، آرچ بشپ ڈاکٹر فولی بیچ
آرچ بشپ ڈاکٹر فولی بیچ نے مسجد کے دورے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک خوبصورت اور محبت کرنے والے لوگوں کا ملک ہے اور مجھے خوشی ہے کہ یہاں ‘پیغام امن کمیٹی’ جیسے اقدامات کے ذریعے مکالمے، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: افغانستان نے دہشتگردوں کو نہ روکا تو کل خود بھی اسی آگ میں جلنا ہوگا، علامہ طاہر اشرفی
انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ان کوششوں سے معاشرے میں مزید مثبت تبدیلی آئے گی۔
ہم دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ ہیں، حافظ طاہر اشرفی
اس موقعے پر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہم دنیا کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم فلسطین، کشمیر اور دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں اور عالمی امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مختلف مذاہب و مسالک کے لوگ بستے ہیں اور ‘پیغامِ پاکستان’ دراصل ہماری اجتماعی سوچ اور وحدت کا عکاس ہے۔
تمام مذاہب کے مقدسات محترم ہیں، بشپ آزاد مارشل
صدر چرچ آف پاکستان بشپ آزاد مارشل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب کے مقدسات قابل احترام ہیں اور دہشتگردی و انتہا پسندی کو کسی مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: مذہبی اور مسلکی رواداری کے فروغ کے لیے علما کی جانب سے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے، علامہ طاہر اشرفی
انہوں نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس بار ‘پیغامِ امن کمیٹی’ میں غیر مسلم نمائندوں کو بھی شامل کیا جو ایک مثبت اور تاریخی قدم ہے۔














