اداکارہ، گلوکارہ اور اینکر فضا علی کے ایک پرانے انٹرویو کا کلپ دوبارہ وائرل ہونے پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
فضا علی خان جو 3 دہائیوں سے شوبز انڈسٹری کا حصہ ہیں، اکثر اپنی غیر معمولی اور متنازعہ باتوں کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔ وائرل ہونے والے کلپ میں وہ انکشاف کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ اپنے فلمی عملے کو نشہ آور گولی ملا کر کھانا کھلا دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:’گلوکار نہ ہوتے تو دھوبی ہوتے‘، فضا علی کے تبصرے پر جواد احمد کا سخت ردعمل
فضا علی کے مطابق وہ کسی بات پر ناراض ہوئیں اور انتقام کے طور پر عملے کے کھانے میں زینکس ملا دی۔ اس انکشاف نے انٹرنیٹ صارفین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ یہ ایک سنگین مجرمانہ عمل ہے، جس سے کسی کی جان بھی جا سکتی تھی، جبکہ حیران کن بات یہ ہے کہ فضا علی نے اس واقعے کو نہایت معمولی انداز میں بیان کیا۔
سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس اعتراف پر سنجیدہ کارروائی ہونی چاہیے۔

اسی شو میں فضا علی خان نے اپنی سابقہ شادی، طلاق، بیٹی کے ساتھ تعلق اور دوسری شادی کی خواہشات پر کھل کر گفتگو کی۔
فزہ علی نے اپنی ذاتی زندگی کی چیلنجز کو تسلیم کرتے ہوئے خواتین کو مالی اور جذباتی طور پر خود مختار ہونے کی تلقین کی اور کہا کہ ناکام رشتوں سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔
انٹرویو کے دوران فزہ علی نے اپنی سابقہ شادی کے بارے میں بتایا کہ وہ اور ان کا شوہر شروع میں اچھے دوست تو تھے، مگر شوہر نے کبھی انہیں ایک بیوی کی حیثیت سے نہیں دیکھا۔’جبکہ ہم بہت اچھے دوست تھے، اس نے مجھے کبھی اپنی بیوی کی طرح نہیں دیکھا۔ میں شوٹس سے تھک کر واپس آتی تو کوئی میرا ساتھ نہ دیتا، نہ ٹی وی دیکھنے والا ہوتا، نہ ساتھ کھانا کھانے والا۔‘
یہ بھی پڑھیں:’چہرے پر تھوک لگانے سے دانے ختم ہوگئے‘، فضا علی کے بیان پر صارفین کی تنقید
وہ مزید بتاتی ہیں کہ شوہر انہیں پارٹیوں یا ڈنرز پر لے جاتا، جہاں ان کی تیار کردہ کھانوں کی محنت ضائع ہوجاتی۔ یہ الیٹ کلاس سے تعلق اور عادتوں کی عدم مطابقت نے رشتے کو توڑ دیا۔
طلاق کے بارے میں فزہ علی کا موقف واضح تھا کہ جب عورت کو احساس ہو کہ اس کی بات سنی نہیں جارہا، تو رشتہ ختم کرنا ضروری ہے تاکہ زندگیاں مزید برباد نہ ہوں۔
انہوں نے کہا جب عورت کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جا رہی، تو وہ سمجھتی ہے کہ رشتہ روکنا پڑے گا تاکہ زندگیاں مزید برباد نہ ہوں۔ اگر شوہر بیوی کا رشتہ خراب ہو جائے تو سب سے زیادہ جو تکلیف ہوتی ہے وہ بچوں کو ہوتی ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ طلاق کو بند دروازہ نہ سمجھیں بلکہ نئی شروعات کا موقع ہے۔ ’ایک شخص سے رشتہ ٹوٹ جائے تو یہ ضروری نہیں کہ دروازہ ہمیشہ بند رہے، کوئی راستہ نہ ہو۔ اس دروازے کے بعد ہمیشہ کھڑکی ہوتی ہے۔ اس دروازہ کو چھوڑ دیں اور اس کھڑکی کی طرف دیکھیں۔ اس کھڑکی سے جو ہوا چلے، اس کی خوشی کو محسوس کریں۔ شاید اگلی بار زندگی میں بہتر شخص آئے۔‘
فزہ علی نے اپنی بیٹی فرال کے ساتھ والدہ ہونے کے تجربے کو بھی شیئر کیا۔ وہ سنگل ماں کے طور پر جدوجہد کرتی رہیں اور اب اداکاری، ہوسٹنگ اور گلوکاری سے بیٹی کو اچھی زندگی دے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مرد کی 4 شادیوں پر اداکارہ فضا علی کی جذباتی گفتگو، ویڈیو وائرل
انہوں نے کہا ’آج اگر میں نے اپنی بیٹی کو اچھا گھر، اچھی زندگی دی ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں اور کام کر رہی ہوں۔ میں کسی کے آنے کا انتظار نہیں کر رہی کہ کوئی آکر مجھے پیسے دے۔‘
بیٹی کو دی گئی نصیحت میں انہوں نے آزادی اور تعلیم پر زور دیا ’میں نے اپنی بیٹی کو کہا ہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ میرا گھر ہے، تمہیں اپنا گھر بنانا ہے۔ اسے مضبوط بناؤ اور پھر شادی کرو۔ شادی جلدی کرنے میں کیا جلدی ہے؟‘

وہ خبردار کرتی ہیں کہ اگر بیٹی شادی کے بعد شوہر کی طرف سے پریشانیوں مالی مسائل کا شکار ہوئی تو کیا کرے گی؟اگر وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو اور اپنا کچھ ہو تو فائدہ ہوگا۔ لڑکی کو پڑھایا تو جاتا ہے مگر پاؤں پر کھڑا ہونے نہیں دیتا، یہ کیوں؟
دوسری شادی کے بارے میں فزہ علی نے امید ظاہر کی مگر شرط رکھی کہ پارٹنر ان کی بیٹی کو قبول کرے اور کام کرنے کی اجازت دے۔ انہوں نے کہا، میں دوبارہ شادی کروں گی جب مجھے ایسا شخص ملے گا جو مجھے سپورٹ کرے، میری بیٹی فرال کو قبول کرے اور مجھے کام کرنے دے۔

یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جہاں فزہ علی کی بہادری اور خود اعتمادی کی تعریف ہورہی ہے۔ وہ خواتین کو پیغام دیتی ہیں کہ ناکام رشتوں سے سبق لے کر آگے بڑھیں اور بچوں کی بھلائی کو ترجیح دیں، فزہ علی کی یہ باتیں پاکستانی معاشرے میں خواتین کی آزادی اور خود مختاری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔














