ایشیا کپ میں کھیل کے جذبے سے دوری کے بعد بھارت نے ویمنز ورلڈ کپ کے دوران بھی اسپورٹس مین شپ کو نظر انداز کردیا۔ پاکستان اور بھارت کی خواتین ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے میچ کے دوران ٹاس کے بعد دونوں ٹیموں کی کپتانوں کے درمیان مصافحہ نہ ہونا ایک بار پھر سوالات کو جنم دے گیا۔
یہ پہلا موقع نہیں اس سے قبل 14 ستمبر کو ہونے والے ایشیا کپ کے مینز میچ میں بھی پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کو میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے آگاہ کیا تھا کہ بھارتی کپتان مصافحہ نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپورٹس مین شپ نظرانداز: بھارتی ٹیم نے ایک بار پھر پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملایا
بھارتی ٹیم کے مسلسل رویے سے یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے کہ وہ میدان میں صرف کھیلنے نہیں بلکہ سیاست کا رنگ چڑھانے آتی ہے۔ ویمنز میچ میں بھی اسی سوچ کی جھلک نظر آئی، جہاں کھیل کے بنیادی آداب کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔
اسی تناظر میں ایشیا کپ کے بعد بھارت کے مڈل آرڈر بلے باز اور کپتان سوریا کمار یادیو نے بھی ایک متنازع بیان دیا۔
فتح کے بعد ان کا ’آپریشن سندور‘ سے میچ کو جوڑنا نہ صرف غیر ضروری سیاسی رنگ تھا بلکہ کھیل کے تقدس کے خلاف بھی تھا۔
اگرچہ آئی سی سی نے سوریا کمار پر 30 فیصد میچ فیس جرمانہ عائد کیا، تاہم بھارتی ٹیم کے رویے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ ایشیا کپ کے فائنل کے بعد جب کھلاڑیوں نے ٹرافی لینے سے انکار کیا تو اسے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے دفتر بھجوا دیا گیا۔
اس معاملے پر اے سی سی کے صدر محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سامنے آیا کہ اگر بھارت کو ٹرافی چاہیے تو وہ رسمی طریقہ اختیار کرے اور دفتر سے آ کر خود لے جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ٹیم کی ہٹ دھرمی، محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی، وننگ ٹرافی دیے بغیر ہی تقریب ختم
بھارتی حکومت، میڈیا اور کرکٹ بورڈ کی مشترکہ روش یہ تاثر دیتی ہے کہ کھیل کو سفارتی یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی کھیلوں کے اصولوں اور روح کے سراسر منافی ہے۔














