بنگلہ دیش کے اسٹار بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئندہ پاکستان سپر لیگ کے سیزن 11 کے لیے کنفرم کرلیا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ انتظامیہ کے مطابق ان کی فرنچائز کا اعلان آئندہ چند دنوں میں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا
یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مستفیض الرحمان کو ان کی سابق ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے انڈین پریمیئر لیگ کے نئے سیزن سے قبل ریلیز کردیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ کی ہدایت پر فرنچائز نے بولر سے علیحدگی اختیار کی۔
پی ایس ایل اور آئی پی ایل کے شیڈول میں ٹکراؤ
پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن اور آئی پی ایل کے آئندہ سیزن کے شیڈول اس سال ایک ہی وقت میں رکھے گئے ہیں۔ حالیہ آئی پی ایل نیلامی میں بھاری رقم حاصل کرنے کے باوجود مستفیض الرحمان اب پاکستان کی بڑی ٹی 20 لیگ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔
پی ایس ایل انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئے دور میں بلے بازوں کے لیے چوکنا رہنا ضروری ہوگا کیونکہ مستفیض الرحمان پی ایس ایل 11 میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان کی شمولیت سے جس بھی فرنچائز کو وہ دستیاب ہوں گے، اس کے فاسٹ بولنگ اٹیک کو نمایاں تقویت ملنے کی توقع ہے۔
بھارت کے خلاف بنگلہ دیش کا سخت مؤقف
مستفیض الرحمان کی آئی پی ایل سے علیحدگی کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ آئندہ آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے اپنی قومی ٹیم کو بھارت نہیں بھیجے گا۔ اس فیصلے کی وجہ کھلاڑیوں کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات بتائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی ایل سےمستفیض الرحمان کا اخراج،بنگلہ دیش کا ٹورنامنٹ نشریات نہ دکھانے پر غور
ورلڈ کپ فروری میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے، جبکہ مستفیض الرحمان کے معاملے میں دی گئی سیکیورٹی وجوہات کو بھی اس فیصلے سے جوڑا جارہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات میں مزید کشیدگی کا تاثر مل رہا ہے۔
مستفیض الرحمان کے لیے نیا چیلنج
مستفیض الرحمان کی پی ایس ایل میں شمولیت لیگ کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جارہی ہے، جس سے ایک عالمی شہرت یافتہ ٹی 20 اسپیشلسٹ ٹورنامنٹ کا حصہ بن گیا ہے۔
پی ایس ایل 11 کا آغاز 26 مارچ سے ہو رہا ہے، جبکہ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ مستفیض الرحمان کس فرنچائز کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کا تجربہ ٹورنامنٹ کے توازن پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔














