ایک بھارتی ڈاکٹر کی سوشل میڈیا پوسٹ نے اس وقت توجہ حاصل کر لی جب انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل میں قیام کے دوران پیش آئے ایک واقعے کا تذکرہ کیا، جس میں ہوٹل کی انتظامیہ نے بوفے کھانے سے متعلق ہدایت نامے میں صرف ’بھارتی سیاحوں‘ کو مخاطب کیا تھا۔
ڈاکٹر عرشیت دھمنسکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ چند سال قبل وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ گئے تھے۔ وہاں ایک ہوٹل کے کمرے میں انہیں ایک نوٹس نظر آیا جس میں بوفے کھانے کو بیگ میں ڈالنے سے منع کیا گیا تھا۔
A few years ago, I was in Switzerland with my family. Behind the hotel room door, there was a long message which could be summarised to,
"Don't pack buffet items into your purses. If you want, we can give you separately packed food items."
Which seems an okay message, that… https://t.co/k7WuSmIJQa
— Arshiet Dhamnaskar (@arshiet) October 5, 2025
انہوں نے لکھا کہ ہوٹل روم کے دروازے کے پیچھے ایک لمبا پیغام چسپاں تھا، جس کا خلاصہ یہ تھا براہ کرم بوفے کھانے کو اپنے بیگ یا پرس میں نہ ڈالیں۔ اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو علیحدہ پیک کھانا فراہم کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’بھارتی چینل نے پیسے دیکر کہا کہ کشمیریوں کے خلاف بولیں‘، بھارتی سیاح کی ویڈیو وائرل
ڈاکٹر دھمنسکر نے واضح کیا کہ اگرچہ بوفے میں آپ جتنا کھانا چاہے لے سکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مہمان کھانے کو بیگ میں بھر کر ساتھ لے جائیں۔
ان کے بقول جو بات سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی، وہ یہ تھی کہ نوٹس کا آغاز براہِ راست (پیارے بھارتی سیاحوں) سے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیغام سب سیاحوں کے لیے عمومی طور پر بھی لکھا جا سکتا تھا، لیکن مخصوص طور پر صرف بھارتی سیاحوں کو مخاطب کرنا تکلیف دہ تھا۔














