وزیرِاعظم شہباز شریف شرم الشیخ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل پہنچ گئے

پیر 13 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت پر شرم الشیخ پہنچ گئے۔

شرم الشیخ ائیر پورٹ پہنچنے پر مصری یوتھ و اسپورٹس کے وزیر ڈاکٹر اشرف صبحیی، پاکستان کے مصر میں سفیر عامر شوکت اور پاکستان و مصری اعلی سفارتی عملے نے وزیرِ اعظم کا استقبال کیا۔

وزیرِ اعظم شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ میں جنگ بندی کیلئے شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے. نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ وزیرِ اعظم کے ہمراہ وفد میں شریک ہیں۔

وزیرِ اعظم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے مابین غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے۔

’فلسطینی عوام آزاد فلسطین کی مستحق ہیں‘

وزیراعظم شہباز شریف نے شرم الشیخ پہنچ کر ’ایکس‘ پر ایک پیغام شائع کیا، جس میں انہوں نے لکھا’ الحمدللہ، آج صبح شرم الشیخ پہنچا ہوں تاکہ غزہ امن منصوبے کے تاریخی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کر سکوں۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی جانب ایک نہایت اہم قدم ہے۔‘

’میں اپنے میزبان صدور، صدر السیسی اور صدر ٹرمپ کا تہِ دل سے مشکور ہوں۔
ہم یہ لمحہ صدر ٹرمپ کی غیر معمولی قیادت اور امن کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی کے بغیر نہیں دیکھ سکتے تھے۔
یہ ان کی امن کے لیے یکسو جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ بے معنی خونریزی اور تباہی کا سلسلہ ختم ہوا۔‘

یہ بھی پڑھیے غزہ امن کانفرنس پیر کو مصر میں ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ اور عبدالفتاح السیسی مشترکہ صدارت کریں گے

انہوں نے کہا کہ آج کی یہ تقریب نسل کشی کے ایک سیاہ باب کے اختتام کی علامت ہے۔ ایک ایسا باب جسے بین الاقوامی برادری کو یقینی بنانا ہوگا کہ دوبارہ کبھی کہیں نہ دہرایا جائے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بہادر اور ثابت قدم فلسطینی عوام اس بات کے مستحق ہیں کہ وہ ایک آزاد فلسطین میں زندگی گزاریں۔ ایسا فلسطین جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے والی ہوں اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل پہنچ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز اسرائیل پہنچ گئے، ایک ایسے وقت میں جب حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل شروع کیا ہے، اور غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ چند روز قبل ہی طے پایا تھا۔

صدر ٹرمپ کا طیارہ ایئر فورس ون جب بین گوریان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا تو ان کا استقبال اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ اور وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کیا۔

اس سے قبل ایئر فورس ون نے تل ابیب کے ’ہاسٹیجز اسکوائر‘ کے اوپر پرواز کی، جہاں ہزاروں شہری یرغمالیوں کی رہائی کی خوشی میں جمع تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام اسرائیل کے لیے امریکی یکجہتی کا علامتی اظہار تھا۔

صدر ٹرمپ نے واشنگٹن سے اسرائیل روانگی کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، اب وقت امن قائم کرنے کا ہے۔

صدر ٹرمپ پیر کو اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب کریں گے، جبکہ اسرائیلی صدر ہرزوگ کے مطابق، انہیں اسرائیل کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے بھی نوازا جائے گا۔

امریکی صدر بعد ازاں مصر جائیں گے، جہاں وہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ہمراہ غزہ امن کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ یہ اجلاس شرم الشیخ میں منعقد ہوگا جس میں جنگ بندی کے استحکام اور غزہ کی تعمیرِ نو کے حوالے سے حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔

ٹرمپ کے ہمراہ امریکی خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر، اسٹیو وٹکوف اور ایوانکا ٹرمپ بھی موجود تھیں۔

حماس نے 7 اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے، فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کی تیاریاں جاری

قبل ازیں حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اپنے تحویل میں لیے ہوئے 7 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا ہے، ان یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے یرغمالیوں کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ کراس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق سات اسرائیلی مغویوں کو ان کی تحویل میں دے دیا گیا ہے، جنہیں اب غزہ پٹی میں اسرائیلی دفاعی فورسز اور انٹیلی جنس سروس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مزید مغویوں کی منتقلی بھی جلد متوقع ہے جنہیں ریڈ کراس کے ذریعے حوالے کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں جنگ بندی برقرار، اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی تیاری

بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے غزہ پٹی میں حماس کے قبضے سے 20 زندہ اسرائیلی مغویوں کی رہائی کے پہلے مرحلے کا آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پایا تاکہ غزہ میں جاری تنازعے کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

دوسری طرف معاہدے کے تحت اسرائیل اپنے جیلوں سے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں اور نظربندوں کو آج رہا کرے گا۔ اس کے بعد 28 دیگر اسرائیلی مغویوں کی منتقلی متوقع ہے، جن میں 26 کی لاشیں اور 2لاپتا افراد شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل نے مغربی کنارے میں موجود الجزیرہ کے دفتر کی بندش 7ویں بار بڑھا دی

 اسرائیل میں رئیم کے قریب فوجی کیمپ کے باہر شہریوں کی بڑی تعداد اسرائیلی پرچم اٹھائے مغویوں کی واپسی کا انتظار کر رہی ہے۔

تل ابیب کے ہوسٹیجز اسکوائر میں بھی سینکڑوں افراد جمع ہیں جو اسرائیلی جھنڈے لہرا رہے ہیں اور مغویوں کی تصاویر اٹھائے خوشی و امید کا اظہار کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟