یہودی تہوار کے باعث نیتن یاہو کی غزہ سمٹ میں شرکت سے معذرت

پیر 13 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مصر کے تفریحی شہر شرم الشیخ میں پیر کو ہونے والے غزہ سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے آفس نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مذکورہ اجلاس ایک یہودی مذہبی تہوار کے ساتھ وقوع پذیرہورہا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج مصر میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یہودی تہوار ’سمحت توراہ‘ کے آغاز کے باعث شریک نہیں ہو سکیں گے۔

یہ مذہبی تہوار پیر کی شام سے شروع ہو کر منگل کی شام تک جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان و مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، غزہ اور فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال

قبل ازیں مصری صدارت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ نیتن یاہو کو امریکی صدر ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے بعد شرم الشیخ سمٹ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس بھی اس بین الاقوامی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے مصری اعلان پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: غزہ امن معاہدہ نئے دور کا آغاز، ہم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب

دوسری جانب صدر ٹرمپ پیر کے روز اسرائیل پہنچے جہاں انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کیا۔

پارلیمنٹ میں داخل ہوتے وقت صدرٹرمپ نے کہا کہ فلسطینی تنظیم حماس ان کے امن منصوبے کے تحت اپنے ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہوگی، اگرچہ حماس اس سے قبل اس امکان کو مسترد کر چکی ہے۔

خطاب سے قبل صحافیوں کے سوال پر صدر ٹرمپ نے اثبات میں کہا کہ غزہ کی جنگ ختم ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کے بدلے 620 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پاگیا، حماس

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کے مطابق مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی کو ایک انتظامی کردار دیا جائے گا۔

تاہم یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اتھارٹی کو اصلاحات کے ایک وسیع پروگرام سے گزرنا ہوگا جو کئی سال لے سکتا ہے۔

منصوبے میں غزہ میں عرب ممالک کی قیادت میں ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس تعینات کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کے ساتھ مصر اور اردن کے تربیت یافتہ فلسطینی پولیس اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

مزید پڑھیں: جنگ بندی معاہدہ، حماس نے 3 یرغمالی، اسرائیل نے 90 فلسطینی قیدی رہا کر دیے

منصوبے کے مطابق جیسے ہی یہ فورسز تعینات ہوں گی، اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلا کریں گی۔

فی الحال تقریباً 200 امریکی فوجی اہلکار اسرائیل میں تعینات ہیں جو جنگ بندی پر عمل درآمد کی نگرانی کر رہے ہیں۔

منصوبے میں مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، جو نیتن یاہو کے لیے ناقابلِ قبول تصور کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، خیبرپختونخوا نے بھی اہم فیصلے کرلیے

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان