بھارت کی جیلوں میں کئی سال قید رہنے والے 54 پاکستانی ماہی گیر آخرکار رہائی کے بعد واہگہ بارڈر کے ذریعے وطن واپس پہنچ گئے۔ طویل اور مشکل اسیری کے بعد ان کی واپسی نے اہل خانہ کے لیے خوشی کا لمحہ پیدا کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق یہ ماہی گیر 2017 سے 2021 کے درمیان بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سرکریک کے قریب سمندری حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: دن بھر کی مشقت کے باوجود دو وقت کی روٹی سے مجبور گوادر کے ماہی گیروں کی دکھ بھری داستان
واپسی پر ایدھی فاؤنڈیشن کی ٹیموں نے انہیں واہگہ بارڈر پر وصول کیا اور خصوصی گاڑیوں کے ذریعے کراچی منتقل کیا، جہاں ایدھی ٹاور سینٹر میں ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ ماہی گیروں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ہار پہنائے گئے۔
واپسی پر متعدد ماہی گیروں نے بھارتی قید میں گزرے کٹھن اور اذیت ناک دنوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں تشدد اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
ادھر سندھ کے مختلف ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان ماہی گیروں کے اہل خانہ، جو سالوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر تھے، خوشی اور آنسوؤں کے امتزاج کے ساتھ ان سے جا ملے۔














