افغانستان کی پاکستانی حدود میں پھر فائرنگ، پاک فوج کے جواب میں خارجی کمانڈر ہلاک، 6 ٹینک پوزیشنز عملے سمیت تباہ

منگل 14 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نے ایک بار پھر خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں پاکستان کی حدود میں بلا اشتعال فائرنگ کی ہے، جس کا پاک فوج کی جانب سے بھرپور اور شدید جواب دیا گیا ہے، اور اہم خارجی کمانڈر کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ 6 ٹینک پوزیشنز عملے سمیت تباہ کردی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی جارحیت: پاکستان کا جوابی کارروائی میں فضائی  وسائل اور ڈرونز کا استعمال

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی سے طالبان کی پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ طالبان لاشیں چیک پوسٹ پر ہی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان کی پوسٹوں میں آگ بھڑک اٹھی، طالبان کا ٹینک بھی تباہ ہوا، اور ایک ٹینک پوزیشن کو بھی اڑا دیا گیا۔

پاک فوج نے انتہائی مہارت اور پیشہ ورانہ کارروائی کے دوران طالبان کے چلتے ٹینک کو نشانہ بنا کر تباہ کیا، جس کی فوٹیج دیکھی جا سکتی ہے۔

ایک گھنٹے کے دوران چوتھی ٹینک پوزیشن شمشاد پوسٹ تباہ کردی گئی، فتنہ الخوارج اور طالبان کے کارندے شدید گھبراہٹ میں پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

پاک فوج نے جوابی کارروائی میں خوست میں پانچویں ٹینک پوزیشن نارگسر پوسٹ پر کھڑے ٹینک اور اس کے کریو کو بھی تباہ کردیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق طالبان اور فتنہ الخوارج کے متعدد کارندے اس کارروائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی شدید جوابی کارروائی کے دوران طالبان نے ایک بارڈر پوسٹ پر سفید جھنڈا لہرا دیا، اس کے بعد طالبان رجیم کے کارندے پوسٹ خالی کرکے فرار ہوگئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ترکمان زئی ٹاپ پر پاک فوج نے آپریشن کرتے ہوئے طالبان کا چھٹا ٹینک بھی تباہ کردیا، جس میں اس کا عملہ بھی ہلاک ہوا۔

تباہ شدہ ٹینک سے بلند ہونے والے شعلے واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں، جو اس حملے کی شدت کا غماز ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے پولسین پوسٹ کے مدمقابل کالعدم ٹی ٹی پی کے ملک نعیم کے ٹریننگ کیمپ کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 11 اور 12 اکتوبر کی رات کو افغانستان نے پاکستان کی حدود میں فائرنگ کی تھی، جس کا پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 200 سے زیادہ افغان فوجی اور خوارج ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان نے افغانستان پر واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائےگی، اور بھرپور جواب دیا جائےگا۔

افغانستان کی جانب سے جب پہلی بار پاکستان پر حملہ کیا گیا تو اس وقت عبوری افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی بھارت میں موجود تھے، جنہوں نے وہاں بیٹھ کر پاکستان پر مختلف الزامات بھی عائد کیے، جنہیں اسلام آباد نے مسترد کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت، افغانستان کے ذریعے پاکستان سے بدلے کی کوشش کررہا ہے، وزیرِ دفاع خواجہ آصف

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا واضح پیغام ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اس لعنت کے خاتمے تک جاری رکھی جائےگی، اور اپنی سرحدوں کی ہر قیمت پر حفاظت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کفایت شعاری مہم: صدر مملکت نے یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کی منظوری دیدی

اسپتال پر حملے میں 400 ہلاکتوں کا دعویٰ، افغان میڈیا نے طالبان رجیم کا جھوٹ بے نقاب کردیا

اسپتال پر حملے کا دعویٰ جھوٹ، افغانستان پوزیشن واضح کرے دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہے یا پاکستان کے ساتھ، عطا تارڑ

حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کو غیر ملکی سرمایہ کاروں تک توسیع دے دی

جہاں جہاں اور جس چیز سے ملک کو خطرہ ہے اسے ختم کرنا پاکستان کا حق ہے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

دہشتگردوں کا نیا پروپیگنڈا، ٹرمپ عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے

کسی بھی مسئلے پر زیادہ سوچنا پیچیدہ مسئلہ ضرور، لیکن اس کا آسان حل کیا ہے؟

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا