نومنتخب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ عمران خان صاحب کی منظوری کے بغیر کوئی کام نہیں ہوگا۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور ساڑھے چار پانچ کروڑ عوام کا نمائندہ ہوں، ایسے میں ان لوگوں کو جو عمران خان سے ملاقات نہیں کروانا چاہتے سوچنا چاہیے کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ ملاقات کے لیے آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’سہیل آفریدی میرا اوپننگ بلے باز ہے‘، بانی پی ٹی آئی عمران خان کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے خصوصی پیغام
سہیل آفرید کا کہنا تھا کہ جب سے عمران خان جیل گئے ہیں میری ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے حوالے سے جو فہرست گردش کر رہی ہے وہ فیک ہے، عمران خان صاحب کی منظوری کے بغیر کوئی کام نہیں ہوگا۔
قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو 18 نومبر تک حفاظتی ضمانت دی۔ درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس نعیم انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے جھنڈے کی جگہ پی ٹی آئی کا جھنڈا، نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی تنقید کی زد میں
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سہیل آفریدی صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں، ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور انہیں حفاظتی ضمانت دی جائے۔
عدالت نے سہیل آفریدی کی درخواست منظور کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کسی بھی مقدمے میں انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔

عدالت نے مزید حکم دیا کہ تمام متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کیے جائیں اور وزیر اعلیٰ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کی جائیں۔
حفاظتی ضمانت ملنے کے بعد سہیل آفریدی عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی نے بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عہدے کا حلف اٹھا لیا
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ کوشش ہے کہ خان صاحب سے ملاقات کروں۔
ا












