ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، اس کے لیے کسی کو بتانے یا اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران افغانستان کی جانب سے عائد الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان کے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند کی جارحیت پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور اس دوران پوری کوشش کی کہ کسی سویلین کو نقصان نہ پہنچے۔
شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین، عوام اور قومی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیزفائر دیرپا ثابت ہوگا؟
افغان قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے بیانات مسترد
انہوں نے افغان قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے بیانات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الزامات حقائق کے منافی ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کو توقع ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں گے۔
دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، اور امید رکھتا ہے کہ مستقبل میں افغانستان میں ایک جامع حکومت تشکیل پائے گی جس میں تمام فریقین شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغان پالیسی کتنی درست، افغانستان پر ہمارا کنڑول کتنا تھا، سابق کور کمانڈر پشاور کا تبصرہ
پاکستان دہشتگردی کے شواہد افغان عبوری حکومت کو فراہم کر چکا
شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان بارہا دہشتگردی کے شواہد افغان عبوری حکومت کو فراہم کر چکا ہے، اس لیے امیر خان متقی کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ دہشتگردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔
ترجمان نے افغان حکومت کے ترجمان کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افغان عہدیداروں کو پاکستان کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرنے کے بجائے اپنے داخلی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
کیا پاکستان نے کابل پر حملوں سے قبل امریکا کو اعتماد میں لیا؟ آگے کا امن روڈمیپ کیا ہے؟ اور کیا سیز فائر میں توسیع کی جارہی ہے؟
ان سوالات کے جوابات میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہمیں حقِ دفاع استعمال کرنے سے پہلے کسی کو بتانے یا کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے اٹھنے والی دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: پاک فوج
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور کابل کے درمیان متواتر سفارتی رابطے ہوتے رہتے ہیں۔ سیز فائر کی درخواست افغان طالبان رجیم نے کی۔ سیز فائر خلاف ورزیوں کی تفصیلات آئی ایس پی آر دے سکتا ہے۔
جب ترجمان دفتر خارجہ سے پوچھا گیا کہ دوحہ مذاکرات کے بارے میں کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ اس بارے میرے پاس کوئی معلومات نہیں۔
بھارت کا منفی عکس پورے جنوبی ایشیا کو متاثر کر رہا ہے
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کا منفی عکس پورے جنوبی ایشیا کو متاثر کر رہا ہے، بھارت کا منفی کردار سب جانتے ہیں، بھارت کے اپنی تمام ہمسایوں سے خراب تعلقات ہیں۔ ہم نے بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے ریمارکس کو نوٹ کیا ہے۔ ایسے کمنٹس 2 ملکوں کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہیں۔ بھارت کا بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو پاکستان پر حملوں کے لیے فنڈ کرنا ایک معروف حقیقت ہے۔
طالبان رجیم کہے جانے کا مطلب کیا ہے؟
افغان حکومت کی بجائے طالبان رجیم کہے جانے کا مطلب کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم نے کابل میں کسی بھی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے ہیں۔ ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے حامی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوجیوں کی لاشیں مسخ کرنا ایک بہیمانہ اقدام ہے۔ ہم افغان طالبان رجیم کے ساتھ اس معاملے کو اٹھائیں گے۔
افغانستان میں حکومت کا فیصلہ افغان عوام کریں گے
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ افغانستان میں کس کی حکومت ہو گی اس کا فیصلہ افغان عوام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئی رجیم چینج نہیں چاہتے۔
افغانستان میں پسندیدہ شخصیات سے متعلق سوال
کیا اب بھی افغانستان میں پاکستان کی کوئی پسندیدہ شخصیات ہیں؟
اس سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ صورتحال بہت نازک ہے اور سوشل میڈیا رپورٹس پر یقین نہ کریں۔
سابق افغان حکام کی پاکستان آمد پر وضاحت
ترجمان نے وضاحت کی کہ 30 ستمبر کو سابق افغان حکام کو پاکستان میں مدعو نجی طور پر کیا گیا، حکومتِ پاکستان نے نہیں کیا۔
چین کے مؤقف پر دفتر خارجہ کا ردعمل
پاک افغان کشیدگی پر چین کا کیا مؤقف ہے؟ اس سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ چین نے اپنی پوزیشن اپنے بیان میں بتا دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین علاقے میں استحکام کا باعث ہے اور علاقائی استحکام کے حوالے سے جو بھی اقدام ہو گا، چین اس کی حمایت کرے گا۔
افغان وزیر خارجہ کے الزامات پر ردعمل
ترجمان نے کہا کہ افغان وزیر خارجہ کا یہ کہنا غلط ہے کہ ان کے دیگر ہمسائیوں کو شکایات نہیں، افغانستان کے دوسرے ہمسایے بھی شکایات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان دہشتگردی کے عالمی مرکز کی شکل اختیار کر گیا ہے اور خطرات کے مزید پھیلنے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے غیر متزلزل عزم کا اظہار کرتا ہے کہ پاکستان اپنی سکیورٹی کے لئے اقدامات اٹھاتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کی خفیہ کارروائی میں طالبان انٹیلیجنس چیف ہلاک، ’قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا‘
پاکستان کی افغان عوام سے تاریخی میزبانی
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے جس طرح سے افغان عوام کی میزبانی کی، اس کے کسی اور ہمسایے نے نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے ان کو سکول، ہسپتال اور کاروبار کی سہولیات دیں، کسی اور ہمسایے نے نہیں دیں۔
معاشی کوریڈور
پاکستان اور چین کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہیں۔ پاکستان چین کے ساتھ مل کر معاشی کوریڈور تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان سمجھتا ہے کہ چین عالمی طور ایک اچھی طاقت ہے اور اگلے سال دونوں ممالک سفارتی تعلقات کی 75 ویں برسی منائیں گے۔
سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی تعلقات
ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا دوطرفہ دفاعی معاہدہ ہے اور اس معاہدے کا موازنہ نیٹو جیسے اتحاد سے نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات انتہائی اہم ہیں۔














