ماں مار کر بچے لے جانا اور دیگر عوامل ریچھوں کو پاکستان سے مٹا رہے ہیں

منگل 21 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں ریچھوں کی آبادی کو کئی دہائیوں سے لاحق خطرات ہیں جن میں رہائش گاہوں میں کمی، غیر قانونی شکار، جنگلات کی کٹائی، اور انسان و جانور تنازعات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گلوکارہ قرۃالعین بلوچ پر ریچھ کا حملہ: منتظمین اور گلگت بلتستان وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ آمنے سامنے

ترک خبر رساں ادارے انادولو کی رپورٹ کے مطابق یہ خطرات اب اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ مقامی ماہرین جنگلی حیات ملک میں ریچھوں کی بقا کو سنگین خطرے میں قرار دے رہے ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی میں ملک میں ریچھوں کی آبادی کتنی کم ہوئی؟

اگرچہ پاکستان میں ریچھوں کی درست تعداد جاننے کے لیے کوئی جامع سائنسی سروے نہیں ہوا تاہم ماہرین کا اندازہ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں ان کی آبادی میں 20 سے 30 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔

یونیورسٹی آف ہری پور کے وائلڈ لائف ایکالوجی لیب کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک کے کچھ علاقوں میں ریچھوں کی آبادی اب بھی نسبتاً مستحکم ہے مگر مجموعی رجحان تشویشناک ہے۔

’کئی علاقوں میں ریچھ مکمل طور پر ناپید ہو چکے ہیں‘

محمد کبیر نے کہا کہ کئی ایسے علاقے ہیں جہاں پہلے ریچھوں کی اچھی خاصی تعداد ہوا کرتی تھی لیکن اب وہ وہاں مکمل طور پر ناپید ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں ریچھوں کی اقسام

پاکستان میں ریچھوں کی 2 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں ہمالیائی براؤن بیئر اور ایشیائی کالا ریچھ شامل ہیں۔

کالے ریچھ کی 2 ذیلی اقسام ہیں جن میں ہمالیائی کالا ریچھ (خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے جنگلات میں پایا جاتا ہے) جبکہ دوسرا بلوچستان کالا ریچھ  جو بلوچستان کے خشک پہاڑی علاقوں، خصوصاً خضدار اور قلات میں موجود ہے۔

ریچھوں کو لاحق بنیادی خطرات

ماہرین کے مطابق ریچھوں کو درپیش اہم خطرات میں رہائش گاہوں کی کمی، جنگلات کی کٹائی، زرعی زمین پر قبضہ، غیر قانونی شکار اور انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے تصادم شامل ہیں۔

پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور کے محقق فیضان احمد نے کہا کہ ایشیائی کالا ریچھ، جو کبھی پورے ایشیا کے جنگلات میں پایا جاتا تھا، اب شدید دباؤ میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی آبادی بکھری ہوئی ہے اور انسانی علاقوں میں دخل اندازی کے باعث مزید خطرے میں ہے۔

بلوچستان کالا ریچھ خطرناک حد تک کم

کبیر کے مطابق پاکستان میں ہمالیائی اور بلوچستان کالا ریچھوں کی مشترکہ آبادی ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار کے درمیان ہے جبکہ بلوچستان کالے ریچھ کی بالغ آبادی شاید 50 سے بھی کم رہ گئی ہو جو اسے شدید خطرے سے دوچار جانوروں کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔

فیضان احمد نے خبردار کیا کہ یہ پاکستان کے ان چند بڑے گوشت خور جانوروں میں سے ایک ہے جس پر نہ ہونے کے برابر تحقیق کی گئی ہے۔

دیوسائی میں کامیاب تحفظ

ہمالیائی براؤن بیئر کی سب سے مستحکم آبادی دیوسائی نیشنل پارک میں پائی جاتی ہے جہاں باقاعدہ مردم شماری اور تحفظ کی کوششوں سے ان کی تعداد میں حالیہ برسوں

میں بہتری آئی ہے۔

مزید پڑھیے: دیوسائی میں گلوکارہ قرۃ العین بلوچ پر ریچھ کا حملہ کیوں ہوا، واقعات بڑھنے کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

ایک چھوٹی سی آبادی خنجراب نیشنل پارک میں بھی موجود ہے جبکہ سوات، کوہستان، شانگلہ، اپر دیر، نیلم ویلی اور دیامر میں ہمالیائی کالا ریچھ کبھی پایا جاتا تھا مگر اب ان علاقوں میں ان کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

ریچھوں کا شکار اور غیر قانونی تجارت

ریچھوں کو نہ صرف کھال اور چربی کے لیے شکار کیا جاتا ہے بلکہ ریچھ کے پتّے (Bear bile) کو روایتی چینی دوا میں استعمال کرنے کے لیے بھی شکار کیا جاتا ہے جس میں موجود یورسوڈی آکسی کولک ایسڈ جدید ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

فیضان احمد کے مطابق شکاری اکثر بہار کے موسم میں غاروں میں آگ لگا کر مادہ ریچھ اور بچوں کو باہر نکالتے ہیں جس کے بعد مادہ کو مار دیا جاتا ہے جبکہ بچے ریچھ نچوانے یا لڑانے جیسے غیر انسانی کھیلوں کے لیے بیچ دیے جاتے ہیں۔

تحفظ کے اقدامات

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ مقامی برادریوں کی شمولیت، رہائش گاہوں کا تحفظ، تصادم میں کمی کے اقدامات اور لمبے عرصے کی نگرانی بھی ضروری ہے۔

احمد نے زور دیا کہ معاوضہ اسکیمیں، غیر مہلک روک تھام کے طریقے اور فصلوں کی حفاظت جیسے اقدامات سے انسان کے اس جانور پر ظلم کو کم کیا جاسکتا ہے۔

ماحولیاتی توازن کے لیے خطرہ

سوات سے تعلق رکھنے والے وائلڈ لائف ماہر اذان کرم نے خبردار کیا کہ ریچھوں کی کمی پاکستان کے ماحولیاتی نظام پر شدید اثر ڈال سکتی ہے کیونکہ یہ ’کی اسٹون‘ اور ’امبریلا اسپیشیز‘ میں شمار ہوتے ہیں۔

اذان کرم  نے کہا کہ ریچھ بیج پھیلانے، مردہ جانوروں کو صاف کرنے اور کیڑوں کی افزائش روکنے جیسے عمل میں کردار ادا کرتے ہیں جن کا غائب ہونا پورے ماحولیاتی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں کالے ریچھ پر تشدد کی ویڈیو وائرل، وفاقی وزیر مصدق ملک کا نوٹس

ان کا کہنا تھا کہ کالا ریچھ چونکہ وسیع اور متنوع علاقوں کا تحفظ یقینی بناتا ہے اس لیے اس کا ختم ہونا پاکستان کی جنگلی حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مری میں برفباری، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے متحرک

صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا

مراد علی شاہ نے خط لکھ کر کراچی میں گرین لائن منصوبہ رکوایا، مصطفیٰ کمال

ووٹر کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، احسن اقبال

صدر مملکت آصف علی زرداری سے اردن کے لیے نامزد سفیر میجر جنرل (ر) خرم سرفراز خان کی ملاقات

ویڈیو

’میں روز گل پلازہ کے اندر موجود اپنے پوتے کے لیے یہاں آکر بیٹھ جاتی ہوں‘، بزرگ خاتون غم سے نڈھال

شریف خاندان کی شاہی شادی، ڈمی رانا ثنا اللہ کی خصوصی گفتگو

میڈیا چینلز میں عشق عمران میں کون مبتلا؟ گل پلازہ میں چوریاں، پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ بن گیا

کالم / تجزیہ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے

محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

ہمارے شہر مر رہے ہیں