اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے زرمبادلہ کے ذخائر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 17 اکتوبر 2025 تک مرکزی بینک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 14 ملین ڈالر بڑھ کر 14.45 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: گزشتہ مالی سال میں اسٹیٹ بینک کا خالص منافع کتنا رہا؟ رپورٹ جاری
اسٹیٹ بینک کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ہفتہ ختم ہونے تک یعنی 17 اکتوبر تک مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 19.85 ارب ڈالر رہے، جن میں سے 5.40 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود تھے۔
FX reserves held by SBP up by US$14mn to US$14.46bn for the week ending Oct 17, 2025. pic.twitter.com/GMgUv4dksb
— Topline Securities Ltd (@toplinesec) October 23, 2025
گزشتہ ہفتے کے دوران بھی ذخائر میں 21 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا تھا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اگرچہ شرحِ اضافہ محدود ہے، تاہم ذخائر میں بتدریج بہتری کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔
مزید پڑھیں: رواں مالی سال میں شرح نمو 4.25 فیصد تک جانے کا امکان، گورنر اسٹیٹ بینک
حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے درآمدات میں اعتدال، ترسیلاتِ زر میں بہتری، اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے قسطوں کی وصولی جیسے عوامل ذخائر کو مستحکم رکھنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
تاہم، بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں اور تیل کی بلند قیمتوں کے باعث ذخائر پر دباؤ برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق، اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں معمولی اضافہ اگرچہ خوش آئند ہے، لیکن پاکستان کے لیے پائیدار معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کی بحالی، اور مالیاتی نظم و ضبط ناگزیر ہیں۔














