امریکی فضائی کمپنی امریکن ایئرلائنز نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ سال مارچ میں اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کرےگی۔
یہ پروازیں نیو یارک کے جے ایف کینیڈی ایئرپورٹ سے تل ابیب کے لیے ہوں گی۔ کمپنی نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے اور اس کے بعد شروع ہونے والی 2 سالہ جنگِ کے باعث یہ فضائی آپریشن معطل کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر حماس کا ردعمل آگیا
امریکن ایئرلائنز کے مطابق تل ابیب کے لیے پروازوں کا دوبارہ آغاز 28 مارچ سے کیا جائے گا۔
حماس کے حملے کے بعد بیشتر غیر ملکی ایئرلائنز نے تل ابیب کے لیے پروازیں بند کر دی تھیں، جبکہ گزشتہ 2 برس کے دوران ایران اور یمن کی جانب سے وقفے وقفے سے ہونے والی میزائل فائرنگ کے باعث فضائی سروسز طویل عرصے تک معطل رہیں۔
اس عرصے میں بین الاقوامی پروازوں کا زیادہ تر بوجھ اسرائیل کی قومی ایئرلائن ایل آل اور مقامی کمپنیوں نے اٹھایا، مگر پروازوں کی کمی کے باعث ٹکٹوں کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اب جبکہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا چکا ہے، تو متعدد غیر ملکی ایئرلائنز نے تل ابیب کے لیے فضائی آپریشن بحال کرنا شروع کر دیا ہے۔ برٹش ایئرویز، ایس اے ایس، آئبیریا اور سوئس ایئر اس ہفتے کے دوران اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر رہی ہیں۔
امریکن ایئرلائنز کے دوبارہ آپریشن کے آغاز کے بعد وہ امریکا سے اسرائیل کے لیے بلاوقفہ پروازیں چلانے والی پانچویں ایئرلائن بن جائے گی۔ اس فہرست میں پہلے سے ایل آل، آرکیا، ڈیلٹا اور یونائیٹڈ ایئرلائنز شامل ہیں۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز اس وقت نیوآرک سے تل ابیب کے لیے روزانہ پروازیں چلا رہی ہے اور آئندہ واشنگٹن اور شکاگو سے بھی پروازوں کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، حملے میں 9 فلسطینی شہید
اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق تل ابیب کے قریب بن گوریون ایئرپورٹ پر رواں سال کے ابتدائی 9 مہینوں میں مسافروں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے جو ایک کروڑ 36 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔














