وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے اور پیپلز پارٹی نے ریاست میں اپنی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔
گزشتہ رات پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ڈنر کا اہتمام کیا جس میں 27 ارکان قانون ساز اسمبلی نے شرکت کی، اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے بھی 27 ارکان کی ہی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے بندے پورے کر لیے، سردار تنویر الیاس
گزشتہ روز پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے 10 ارکان اسمبلی نے فریال تالپور سے ملاقات کے بعد تحریک عدم اعتماد میں پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے آج مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرنا تھی، تاہم قریبی رفقا کی مشاورت کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس ملتوی کردی۔
اس سے قبل وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا تھا کہ میرے خلاف اگر 27 ارکان اسمبلی ایک جگہ بیٹھ کر چائے بھی پئیں گے تو گھر چلا جاؤں گا۔
وزیراعظم ہاؤس کے باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق آج رات تک یا کل عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔
وزیراعظم کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اسمبلی توڑ سکتا ہے، لیکن ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی نے پہلے ہی تحریک عدم اعتماد پر دستخط کروا کر اسپیکر کے پاس جمع کروا رکھی ہے، اگر وزیراعظم کوئی ایسا اقدام کرتے ہیں تو اس سے پہلے کی تاریخوں میں تحریک عدم اعتماد سامنے لا کر نئے قائد ایوان کے لیے کارروائی مکمل کی جائےگی۔
یہ بھی پڑھیے: مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا حصہ نہیں بنے گی، راجہ فاروق حیدر
واضح رہے کہ 2 روز قبل صدر مملکت آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد لانے کی منظوری دی تھی۔
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی صورت میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کی صورت میں، 2021 کے عام انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی 4 سال کے دوران چوتھا وزیراعظم منتخب کرے گی۔














