فلائٹ میں دیا جانے والا کھاناکتنا خطرناک ہوتا ہے؟ کیبن کریو ممبر نے حیران کن انکشافات کردیے

منگل 28 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک ایئر لائن کی کیبن کریو ممبر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ دورانِ پرواز مسافروں کو پیش کیا جانے والا کھانا خود نہیں کھاتے، بلکہ اپنے لیے علیحدہ طور پر گھر یا ریسٹورنٹ سے کھانا لے کر آتے ہیں۔

خاتون کریو ممبر کے مطابق فلائٹ کا کھانا صحت کے لیے موزوں نہیں ہوتا کیونکہ اس میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز میں فراہم کیا جانے والا کھانا پرواز سے 24 سے 48 گھنٹے پہلے تیار کیا جاتا ہے۔ کھانا پہلے پکایا جاتا ہے، پھر ٹھنڈا کر کے فریز کیا جاتا ہے، بعد ازاں فلائٹ میں لوڈ کر کے ریفریجریٹر میں رکھا جاتا ہے اور مسافروں کو پیش کرنے سے قبل اسے اوون میں دوبارہ گرم کیا جاتا ہے۔

کریو ممبر نے مزید بتایا کہ اگر کوئی مسافر کہے کہ وہ اپنا کھانا کچھ گھنٹے بعد کھائے گا تو گرم شدہ کھانا دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہتا اور اسے پھینکنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اس کھانے کو دوبارہ گرم بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس صورت وہ خراب ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے زیادہ تر کیبن کریو ممبرز دورانِ پرواز فلائٹ کا کھانا کھانے سے گریز کرتے ہیں اور اپنے ساتھ گھر کا تازہ پکایا ہوا یا باہر سے منگوایا ہوا کھانا لے جاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران پر حملے جاری رکھنے کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ مندی کی نذر

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، صوبے میں مفت علاج اور صحت کے 4 بڑے منصوبوں کا جائزہ

جمعہ کے روز آن لائن کلاسز کی اجازت، وزیر تعلیم پنجاب کا اعلان

’فرانسیسی صدر کی اہلیہ بہت برا سلوک کرتی ہیں، وہ اب بھی بیوی کے حملے سے صحتیاب نہیں ہوسکے‘، ڈونلڈ ٹرمپ

بھارتی ٹرین میں ملنے والا کھانا مسافر خاتون کے لیے بدترین الرجی کا باعث بن گیا

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟