پاکستان میں افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو سرحدی گزرگاہیں کھول دی جائیں یا افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری کا عمل عارضی طور پر روک دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی جاری،افغان شہری پاکستانیوں کے احسان مند
افغان سفیر کی جانب سے جاری بیان میں افغان پناہ گزینوں کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ تورخم، چمن، انگور اڈہ، غلام خان اور دیگر سرحدی گزرگاہوں کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ پناہ گزین باعزت اور منظم انداز میں اپنے وطن واپس جا سکیں۔
سردار احمد شکیب نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 20 دنوں سے تورخم اور چمن-بولدک کراسنگ پوائنٹس بند ہیں جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت، آمدورفت اور ٹرانزٹ مکمل طور پر معطل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان بندشوں کی وجہ سے ہزاروں افغان پناہ گزین شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ان کی حالت دن بدن خراب ہو رہی ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ پولیس کو پناہ گزینوں کی گرفتاری اور ملک بدری کی مہم تیز کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں جب کہ کیمپوں، مساجد اور عوامی مقامات پر اعلانات کے ذریعے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ افغان باشندوں کو اپنے گھروں یا دکانوں سے نکال دیں اور ان کی معلومات پولیس کو فراہم کریں۔
مزید پڑھیے: ہم نے 40 برس سے افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی مگر پاکستان کو اس کا نقصان ہوا، مولانا عبدالحمید
سردار احمد شکیب افغان سفارت خانے کے مطابق اب تک تقریباً 10 ہزار افغان شہری گرفتار کر کے حراستی مراکز میں منتقل کیے جا چکے ہیں جب کہ ہزاروں دیگر افراد گرفتاری کے خوف سے اپنی گاڑیوں میں بیٹھے سرحد کھلنے کے منتظر ہیں۔
افغان سفیر کے مطابق پنجاب سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے پناہ گزین قافلے جمرود سے تورخم تک تقریباً 400 ٹرکوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور بیمار افراد شامل ہیں جو سرد موسم، خوراک، پانی اور طبی سہولتوں کی کمی کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افسوسناک طور پر گزشتہ چند دنوں میں 3 بچوں اور ایک خاتون کی جانیں جا چکی ہیں۔
مزید پڑھیں: افغان پناہ گزین پاکستان میں کتنا وقت رہ سکیں گے؟
بیان میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ کچھ علاقوں جن میں سیالکوٹ، خوشاب اور اٹک شامل ہیں میں افغان پناہ گزینوں سے پولیس اہلکار مبینہ طور پر رشوت طلب کرتے ہیں اور رقم نہ دینے پر انہیں حراستی مراکز بھیجنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
افغان سفیر نے خبردار کیا کہ جب پناہ گزینوں کو زبردستی نکالا جا رہا ہے اور تمام سرحدیں بند ہیں تو وہ سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس سے ایک بڑے انسانی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
Statement by H.E. Sardar Ahmad Shakeeb, Ambassador of Afghanistan in Islamabad, on the ongoing Situation of Afghan Refugees
For nearly twenty days, the Torkham and Chaman-Boldak crossing points have remained closed by Pakistan following the recent unrest and incidents. As a… pic.twitter.com/klWY1APiGX
— AFG Embassy Pakistan (@AfghanEmbPak) October 30, 2025
سردار احمد شکیب نے متعلقہ حکام سے یہ بھی اپیل کی کہ حراستی مراکز میں قید افغانوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کا سلوک کیا جائے اور انہیں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
علاوہ ازیں انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ پناہ گزینوں کی مدد میں اضافہ کریں تاکہ انسانی بحران شدت اختیار نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیے: افغان پناہ گزینوں کے لیے پاکستان میں مشکلات کیوں بڑھ گئیں؟
افغان سفیر نے آخر میں ان پاکستانی شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے جمرود، تورخم اور چمن کے علاقوں میں پھنسے افغان خاندانوں کی مدد کی۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی بھائیوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھولے، بیماروں کو پناہ دی اور خوراک فراہم کی جس پر افغان عوام ان کے شکر گزار ہیں‘۔













