پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بس اب بہت ہوگیا، ہمیں افغان طالبان کی تجاویز نہیں، مسائل کا حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے۔
سینیئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مسلح افواج پاکستان ملک کی سیکیورٹی کی ضامن ہیں۔ پاکستان نے امریکا کو افغانستان پر حملے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ امریکی ڈرونز کے ذریعے پاکستان سے افغانستان میں حملے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
مزید پڑھیں: پاک افغان جنگ بندی میں توسیع، طالبان کا خلوص ایک ہفتے میں واضح ہوجائے گا، ماہرین
انہوں نے کہاکہ امریکا کے ساتھ ہمارا کوئی ایسا معاہدہ موجود نہیں جس کے تحت وہ پاکستان سے ڈرون کے ذریعے کارروائی کر سکے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کررہا ہے، یہ بات درست نہیں کہ پاکستان نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن منایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاکستان اب بھی افغان طالبان کے ساتھ مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے۔ دوحہ اور استنبول مذاکرات میں ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوئی، جس کا مقصد افغانستان سے سرحد پار دہشتگردی کا خاتمہ تھا۔ مسئلے کی اصل وجہ افغان طالبان کا دوحہ معاہدے پر عمل نہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ دوحہ میں طالبان نے امریکا کے ساتھ معاہدے میں وعدہ کیا تھا کہ لویا جرگہ بلایا جائے گا اور اس کے ذریعے افغانستان میں نمائندہ حکومت قائم کی جائے گی، لیکن انہوں نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہم امن کے خواہاں ہیں اور مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر مذاکرات سے مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم خود اسے حل کرنے کی کوشش کریں گے، اور چند دنوں میں ثابت بھی کر دیا کہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے بعض ثالثوں کی درخواست پر امن کو ایک موقع دیا، لیکن بہتر یہی ہے کہ افغان طالبان پرامن مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کریں، ورنہ ہم دیگر طریقوں سے بھی اسے حل کرنے پر مجبور ہوں گے۔
’اصل مسئلہ جرائم پیشہ افراد اور کالعدم ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ ہے‘
ترجمان پاک فوج نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا تعلق نارکو اکانومی سے ہے۔ صوبے میں 12 ہزار ایکڑ پر پوست کی کاشت کی گئی ہے، جس سے ہر ایکڑ پر 18 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک منافع ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مقامی سیاستدان اور عام لوگ بھی اس کاروبار میں ملوث ہیں، جبکہ افغان طالبان انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں کیونکہ یہ پوست افغانستان جاتی ہے، جہاں اس سے آئس اور دیگر منشیات تیار کی جاتی ہیں۔
’تیراہ میں آپریشن کے دوران یہاں کی افیون کی فصل تباہ کی گئی، اور وادی میں ڈرونز، اے این ایف اور ایف سی کے ذریعے پوست تلف کی گئی۔ دہشتگرد نان کسٹم گاڑیوں اور ایرانی تیل کی اسمگلنگ سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘
’پاک افغان جھڑپوں میں 206 افغان طالبان فوجی اور 112 خوارج مارے گئے‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ پاک افغان جھڑپوں میں 206 افغان طالبان فوجی اور 112 خوارج مارے گئے۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں سے کبھی بات نہیں ہوگی، افغان طالبان کو پاکستان کا جواب فوری اور مؤثر تھا، اور پاکستان کے جواب کے وہی نتائج نکلے جو ہم چاہتے تھے۔
انہوں نے کہاکہ افغانستان سے جڑے معاملات کا حل صرف وہ حکومت ہے جو عوام کی نمائندہ ہو، افغانستان کی شرائط معنی نہیں رکھتیں، دہشتگردی کا خاتمہ اہم ہے۔
’کوئی شخص یا سیاسی جماعت ریاست پاکستان سے بالاتر نہیں‘
انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہیں، ہماری اس میں کوئی ذاتی پسند ناپسند نہیں، تاہم کوئی شخص یا سیاسی جماعت ریاست پاکستان سے بالاتر نہیں۔
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ امن فوج غزہ بھیجنے کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی، پاک فوج سیاست میں نہیں الجھنا چاہتی، فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے۔
’2018 میں دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی تھی‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ 2018 میں دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے بعد شدت پسندوں کی کمر توڑ دی گئی تھی، مگر بعد ازاں بعض حلقوں کی جانب سے طالبان کا دفتر کھولنے کی تجویز دی گئی۔ سب کو یاد ہونا چاہیے کہ یہ مطالبہ کن لوگوں نے کیا تھا۔
انہوں نے واضح کیاکہ پاکستان نے کبھی کسی گروہ کو ترجیح نہیں دی، نہ ہی افغان طالبان کبھی ہمارے پسندیدہ رہے۔ ان کے مطابق ریاست پاکستان کسی غیر ریاستی گروہ کے ساتھ بیٹھ کر بات نہیں کر سکتی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دوحہ مذاکرات کے دوران افغان طالبان بظاہر بات مان لیتے تھے مگر بعد میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتے تھے، یہاں تک کہ طے شدہ مسودے پر دستخط کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ہمیں پہلے کسی سے پوچھنا ہے۔
’دنیا پر واضح ہو چکا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی ہو رہی ہے‘
ترجمان پاک فوج نے کہاکہ یہ حقیقت دنیا کے سامنے واضح ہو چکی ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ افغانستان کا دیگر 6 ہمسایہ ممالک کے ساتھ ویزا نظام موجود ہے، تو پھر صرف پاکستان کے ساتھ ویزا تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا؟
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ افغان سوشل میڈیا، افغان سیاست دان اور بھارتی میڈیا جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی وزیر دفاع اور وزیر اطلاعات نے افغان رجیم کے بارے میں درست اور واضح بیانات جاری کیے ہیں۔ افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ روسی صدر کی جعلی ویڈیو اے آئی کے ذریعے بنائی گئی تھی جس کی تردید ہو چکی ہے، اور پاکستانی صحافی کے حوالے سے بھی فوج کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلائی گئی ہیں۔
’ٹی ٹی پی پاکستان کا مسئلہ ہے تو انہیں ہمارے حوالے کیا جائے‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ اگر ٹی ٹی پی پاکستان کا مسئلہ ہے تو انہیں ہمارے حوالے کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیاکہ افغان طالبان خوارج کے حامی ہیں اور اس بات کو ثالثوں کے ذریعے بھی اجاگر کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کنڑ کے نائب گورنر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ سرحد کے قریب موجود ہیں، اور ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے بنیادی طور پر ایک ہی گروہ ہیں۔
انہوں نے کہاکہ افغان طالبان رجیم نے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے افراد کو افغانستان میں پناہ دینا شروع کر دی ہے، اور یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان سے بچ نکل جائیں گے، لیکن ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے۔
’کے پی حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کی بات سے ابہام پیدا ہوتا ہے‘
ترجمان پاک فوج نے کہاکہ ’معرکہ حق‘ میں حکومت، کابینہ، فوج اور سیاسی جماعتوں نے مشترکہ فیصلہ سازی کی تھی۔
ان کے بقول اگر خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں سے مذاکرات کی بات کرتی ہے تو اس سے صرف ابہام پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جن دہشتگردوں نے ہماری فورسز کے جوانوں کو نشانہ بنایا اور پھر شہدا کے مجسموں کی بے حرمتی کی، ان کے ساتھ مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں؟
انہوں نے کہاکہ اس صورتحال میں علما، میڈیا، اور سیاسی قیادت کو ایک آواز ہونا ہوگا تاکہ ٹھوس فیصلے کیے جا سکیں۔
’رواں سال خفیہ آپریشنز میں ایک ہزار 667 دہشتگرد ہلاک ہوئے‘
احمد شریف چوہدری نے کہاکہ رواں سال اب تک 62 ہزار 113 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دیے گئے ہیں۔ جن میں ایک ہزار 667 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ روزانہ قریباً 207 ایسے آپریشن ہو رہے ہیں، جن میں آرمی، رینجرز اور خفیہ ادارے مل کر حصہ لیتے ہیں۔
’ان کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں میں 128 افغان شہری ہیں، اور اب تک ہمارے 582 افسر اور جوان شہید ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ خوارج سے عوام کی حفاظت کے لیے ہم نے یہ آپریشن شروع کیے ہیں، لیکن بعض سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ ہمیں آپریشنز معطل کر دینے چاہییں۔
’بھارت سمندر کے ذریعے کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے، ہم الرٹ ہیں‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں خدشہ ہے کہ بھارت سمندر کے ذریعے کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان دوحہ معاہدہ: کیا افغان طالبان دیرینہ جہادی گروپ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں گے؟
انہوں نے کہاکہ بھارت سمندر کے اندر کارروائی کرے گا اور بعد میں یہ دعویٰ کرے گا کہ پاکستان کے خلاف بڑی کارروائی ہوئی۔ ’ہم بھارت کی ممکنہ کارروائی سے آگاہ ہیں اور مکمل طور پر چوکس ہیں۔‘














