عدالتی حکم کے باوجود شیخ رشید کو بیرونِ ملک جانے سے روک دیا گیا

بدھ 5 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیرونِ ملک جانے سے روک دیا گیا، حالانکہ لاہور ہائیکورٹ نے ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) اور پروویژنل نیشنل آئیڈنٹیفکیشن لسٹ (PNIL) سے نکالنے کا حکم جاری کیا تھا۔

شیخ رشید کے مطابق وہ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہو رہے تھے۔ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے بتایا کہ جسٹس صداقت علی خان نے انہیں عمرے پر جانے کی اجازت دی تھی اور عدالتی حکم نامہ متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کر دیا گیا تھا۔ ان کے بقول، عدالت نے واضح ہدایت کی تھی کہ کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔

سابق وزیرِ داخلہ نے مزید کہا کہ ایئرپورٹ پہنچنے پر امیگریشن حکام نے مجھے سفر سے روک دیا، حالانکہ میں نے انہیں عدالت کا حکم نامہ بھی دکھایا۔ اب میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرنے کے لیے جسٹس صداقت علی خان کی عدالت سے رجوع کروں گا۔

شیخ رشید نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں ہائی کورٹ کا حکم نہ مانا جائے، وہاں انسان صرف آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ سے مدد مانگ سکتا ہے۔ اللہ مجھے عمرہ بھی کروائے گا اور انہیں اپنے فیصلے پر شرمندہ بھی ہونا پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی سمیت سندھ میں بارش، بالائی علاقوں میں شدید برفباری کا امکان

مقبوضہ کشمیر کی معروف خاتون رہنما آسیہ اندرابی دہشتگردی کیس بری، دیگر الزامات میں مجرم قرار

مودی کی توجہ طلبی اور جرمن چانسلر کی دوری، بھارتی وزیراعظم ایک بار پھر مذاق کا نشانہ بن گئے

ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت کارروائی کا سامنا ہوگا، طلال چوہدری

بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی قیادت میں انتخابی اتحاد، 253 نشستوں پر انتخابی معاہدہ طے

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘