پہلی بار انسانی دماغ کے خلیوں کا جامع نقشہ تیار، کونسی بیماریوں پر قابو پایا جاسکے گا؟

پیر 10 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنس دانوں نے ایک ایسے بین الاقوامی تحقیقی منصوبے میں سنگِ میل عبور کر لیا ہے جس کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ انسانی دماغ کے مختلف اقسام کے خلیے ابتدائی جنینی مرحلے سے لے کر بلوغت تک کس طرح پیدا ہوتے اور ترقی کرتے ہیں۔

یہ تحقیق مستقبل میں آٹزم، شیزوفرینیا اور دیگر دماغی امراض کے علاج کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی کا قدرتی دماغ کی طرح کام کرنا ممکن بنالیا گیا

امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے برین اِنیشی ایٹو سیل اٹلس نیٹ ورک کے تحت ہونے والی اس تحقیق میں سائنس دانوں نے انسانی، چوہے اور جزوی طور پر بندر کے دماغوں پر کام کیا۔

انہوں نے دماغی خلیوں کی نشوونما، ان کے ارتقاء اور جینیاتی تبدیلیوں کا تفصیلی نقشہ تیار کیا۔

تحقیق کے مطابق، سائنس دانوں نے ان خلیوں کی نشاندہی کی جو دماغی عمل کے اہم جینز کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس دوران انسانی اور حیوانی دماغ کے خلیوں میں مماثلتیں بھی سامنے آئیں۔

تاہم انسان کے دماغ کی کچھ منفرد خصوصیات بھی دریافت ہوئیں، جن میں پہلے سے نامعلوم خلیاتی اقسام بھی شامل ہیں۔

یہ نتائج معروف سائنسی جریدے نیچر اور اس سے وابستہ رسائل میں شائع کیے گئے ہیں۔

ایلن انسٹی ٹیوٹ کے دماغی سائنس دان اور تحقیق کی قیادت کرنے والے ہونگ کوئی زینگ نے کہا کہ ہمارے دماغ میں ہزاروں اقسام کے خلیے موجود ہیں جو مختلف خصوصیات اور افعال کے حامل ہیں۔

اور انہی کی باہمی کارکردگی جذبات، رویوں اور سوچ کے عمل کو جنم دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟

تحقیق میں انکشاف ہوا کہ چوہے کے دماغ میں 5,000 سے زائد خلیاتی اقسام پائی جاتی ہیں، اور انسان میں ان کی تعداد کم از کم اتنی ہی یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

یوسی ایل اے کی نیوروسائنٹسٹ اپرنا بھدوری نے کہا کہ اب سائنس دانوں کے پاس انسانی دماغ کی ترقی کے مراحل کا ایک زیادہ تفصیلی نقشہ ہے، جو اس سے قبل ممکن نہ تھا۔

تحقیق کے مطابق یہ علم نہ صرف انسانی دماغ کی خصوصیات اور ذہانت کو سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ مختلف دماغی بیماریوں جیسے آٹزم، اے ڈی ایچ ڈی اور شیزوفرینیا کی جڑوں تک پہنچنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: سائنسدانوں نے انسانی دماغ کے خلیات سے چلنے والا کمپیوٹر تیار کرنے کی ٹھان لی

سائنس دانوں نے دماغ کے ان حصوں پر خصوصی توجہ دی جن میں نیوکورٹیکس، جہاں اعلیٰ درجے کی سوچ پیدا ہوتی ہے، اور ہائپو تھیلمس، جو جسم کا درجہ حرارت، نیند، بھوک، پیاس اور موڈ کنٹرول کرتا ہے، شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق انسانی دماغ میں خلیوں کی نشوونما کا عمل جانوروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل ہوتا ہے، جو انسانی ذہنی ارتقاء کی ایک اہم خصوصیت ہے۔

اپرنا بھدوری کا کہنا تھا کہ ہمارا حتمی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ دماغ کی ترقی کے دوران کون سے عوامل اعصابی یا نفسیاتی بیماریوں کی بنیاد بنتے ہیں۔

 ماہرین کے مطابق یہ تحقیق اس سمت میں ایک بڑی پیش رفت ہے، مگر اس منزل تک پہنچنے میں وقت درکار ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دھند کے باعث پاکستان میں فضائی آپریشن متاثر

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘