بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں قابض پولیس نے ایک بار پھر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے متعدد پیشہ ور ڈاکٹروں کو ’انتہا پسندی‘ کے بے بنیاد الزامات میں ملوث قرار دیا ہے۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مختلف علاقوں میں سرگرم طبی ماہرین کے ایک ’شدت پسند نیٹ ورک‘ کو بے نقاب کیا ہے، تاہم تفصیلات اور شواہد کے تضادات نے اس کہانی کو مشکوک بنا دیا ہے۔
واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب سرینگر کے نوگام علاقے میں ایک نامعلوم پوسٹر نظر آیا جس میں مقامی دکانداروں کو مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی وارننگ دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ جموں و کشمیر، میر واعظ عمر فاروق ایک بار پھر نظربند
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر الزام لگایا کہ پوسٹر لگانے والا شخص سہارنپور (اتر پردیش) کا رہائشی اور کشمیری نژاد ڈاکٹر عدیل ہے۔
پولیس نے ڈاکٹر عدیل کو گرفتار کیا اور ان کے ’اعترافات‘ کی بنیاد پر دیگر ڈاکٹروں کو بھی ملوث کرنے کی کوشش کی، جن میں فریدآباد میں تعینات ڈاکٹر مزمل شامل ہیں۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر مزمل کی کلینک سے دو AK-47 رائفلیں، 350 کلو امونیم نائٹریٹ، پستول، میگزین، کارتوس، واکی ٹاکی سیٹ اور بیٹریاں برآمد کی گئیں۔
پولیس کے دعوے متعدد سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ناقابلِ یقین ہے کہ ایک مصروف ڈاکٹر صرف ایک پوسٹر لگانے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرے، وہ بھی ایک ایسے علاقے میں جہاں قریباً ہر گلی میں نگرانی کے کیمرے نصب ہیں۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے 11 افراد جاں بحق، درجنوں مکانات تباہ
مزید برآں، ڈاکٹر عدیل گزشتہ برس اکتوبر 2024 تک گورنمنٹ میڈیکل کمپلیکس، اننت ناگ میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ وہاں ’اسلحہ‘ کس طرح ایک سال تک رکھ سکتے تھے جب وہ ادارہ وہ چھوڑ چکے تھے؟
پولیس کے مطابق برآمد ہونے والی رائفلیں AK-47 تھیں، مگر فریدآباد پولیس کمشنر ستندر کمار گپتا نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ برآمد شدہ ہتھیار AK-47 نہیں تھے۔ اس تضاد نے پولیس کی ساکھ پر مزید سوالات اٹھا دیے۔
بھارتی میڈیا اداروں کی رپورٹنگ میں بھی واضح تضادات پائے گئے۔ NDTV نے لکھا کہ اسلحہ ’مزمل شکیل‘ سے برآمد ہوا جبکہ دیگر ذرائع نے ’مفازل شکیل‘ کا نام لیا۔ کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ برآمد شدہ مواد کی مقدار 350 کلو نہیں بلکہ 2900 کلوگرام تھی جو ایک ٹرک کے وزن کے برابر ہے۔ تجزیہ کاروں نے اسے ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ جموں و کشمیر: تباہ کن بارش اور سیلاب سے 13 ہلاک، مواصلاتی نظام ٹھپ
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ واقعہ بھارتی ریاستی اداروں کے اس رجحان کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت کشمیری مسلم پیشہ وروں کو دانستہ طور پر مجرم بنا کر ان کے سماجی و پیشہ ورانہ کردار کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
یہ مہم ایک منظم منصوبے کے تحت چلائی جا رہی ہے تاکہ اعلیٰ سرکاری اور طبی عہدوں پر مسلمانوں کی جگہ ہندو اہلکاروں کو ترجیح دی جا سکے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے ڈاکٹروں، صحافیوں اور علمی شخصیات کو ’دہشتگردی‘ کے مقدمات میں ملوث کر رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ 2022 سے بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں تمام دکانداروں کے لیے CCTV کیمرے نصب کرنا لازمی قرار دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ہر دکان دار کو اپنے خرچ پر ایسا نظام نصب کرنا لازم ہے جو 30 دن تک فوٹیج محفوظ رکھے اور پولیس کے مطالبے پر بغیر عدالتی حکم کے فراہم کرے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی مقبوضہ کشمیر میں ’جموں کشمیر اتحاد المسلمین‘ اور ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ پر پابندی کی مذمت
اس پالیسی کو ماہرین نے ’فاشٹ نگرانی کے نظام‘ کی علامت قرار دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ تمام تر کارروائی بھارت کے اندرونی سیکیورٹی بحران کو چھپانے اور کشمیر میں ریاستی جبر کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔
یہ جھوٹے مقدمات اور تضادات بھارت کی کمزور حکمتِ عملی کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے ذریعے وہ کشمیری عوام کی آواز دبانے، بین الاقوامی تنقید سے بچنے، اور پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔














