’عدالتی نظام عملاً ختم ہوچکا‘، پی ٹی آئی نے 27ویں ترمیم کو آئینی ستونوں پر حملہ قرار دیدیا

منگل 11 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پارلیمنٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے اسے آئین، عدلیہ اور جمہوری اداروں پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرام راجہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت سے پیش ہوکر آئے ہیں اور آج سے ہی جج صاحبان کے رویے میں واضح تبدیلی دیکھی ہے۔

ان کے مطابق عدالتی نظام عملاً ختم ہو چکا ہے۔ عوام نے مسلم لیگ (ن) کو صرف 16 نشستیں دی تھیں، لیکن انہیں پیپلز پارٹی کی مدد سے دو تہائی اکثریت میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم پر ریٹائرڈ ججز کیا کہتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم صدرِ مملکت کو تاحیات استثنیٰ دے کر قانون سے بالاتر بنا رہی ہے۔ پرویز مشرف جیسے آمر کو بھی عدالت نے آئین شکنی پر سزائے موت سنائی تھی، لیکن آج کے حکمران خود کو قانون سے بالاتر سمجھ رہے ہیں۔

سلمان اکرام راجہ کا کہنا تھا کہ کل سینیٹ سے 27ویں ترمیم 64 ووٹوں سے منظور کی گئی، اور سب جانتے ہیں کہ سینیٹ کی موجودہ تشکیل 26ویں ترمیم کے بعد کس طرح ممکن ہوئی تھی۔ آج عدلیہ کے ججوں کے چہرے مایوس اور دل بجھے ہوئے ہیں۔

سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کر گئے تھے، تو حکومت نے دعا کرنے کے بجائے عجلت میں 27ویں آئینی ترمیم منظور کر لی۔

مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم : چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ آرمی چیف کے پاس ہی رہے گا، وزیر دفاع خواجہ آصف

’اس ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس کی حیثیت بھی ختم کر دی گئی، عدلیہ پر قبضہ کر لیا گیا اور ججز کے تبادلوں کے اختیارات حاصل کر لیے گئے۔ جو جج ان کے خلاف فیصلہ دے گا، اس کی ٹرانسفر کر دی جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم میں عدلیہ کو کمزور کیا گیا اور اب 27ویں ترمیم سے چند افراد کو مزید طاقتور بنا کر مسلط کر دیا گیا ہے۔ ’عوام بھیڑ بکریاں نہیں، عوام جاگ چکی ہے اور جلد ان حکمرانوں کا احتساب کرے گی۔‘

سربراہ مجلس وحدت مسلمین سینیٹرعلامہ راجہ ناصر عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اب بے آئین ہو چکا ہے، جس صدر کی تاریخ سب کے سامنے ہے، اسے تاحیات استثنیٰ دے دیا گیا ہے، یہ آئین نہیں بلکہ چند طاقتوروں کا منشور ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ اجلاس: 27ویں آئینی ترمیم پر ووٹنگ کے دوران اپوزیشن کا احتجاج، ’نامنظور نامنظور‘ کے نعرے

’جس بھٹو نے اس ملک کو آئین دیا، اس کی حکومت ایک جنرل نے گرائی تھی، اور اب انہی ترامیم سے چار خدا بنا دیے گئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ آئین میں صاف درج ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ لیکن آج ذاتی مفاد کے لیے آئین کو مسخ کر کے چند افراد کو نوازا گیا ہے۔

’عوام ان چہروں کو پہچانیں جو ووٹ کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں۔ اب ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔‘

مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات کونسے ہیں؟

وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 2 ججز کا خط سامنے آیا، تاہم یہ معاملہ اب محض خط لکھنے کے مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم کے ذریعے وہ ستون منہدم کیا جا رہا ہے جو پاکستان کی عدلیہ کی آزاد حیثیت اور عوام کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ، سیاسی جماعتیں، اپوزیشن کے قائدین اور عوام اس ترمیم پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، آزاد عدلیہ ہر شہری کا حق ہے۔

ججز کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ عوامی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے تمام ذمے دار ادارے اپنا کردار ادا کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گلیات مری واٹر پائپ لائن معاہدہ

اسحاق ڈار کا ایران کے ساتھ ترجیحی شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھنے کا اعلان

پاک فضائیہ اور بنگلہ دیش ایئر فورس کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

لندن میں فلسطینی سفارتخانے کا افتتاح، برطانیہ اور فلسطین تعلقات میں نیا سنگِ میل

دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں نہیں چلے گا، ٹریفک پولیس نے اوورسیز پاکستانی کا چالان کردیا

ویڈیو

مذاکرات صرف میڈیا کی زینت ہیں، کوئی حقیقی پیشرفت نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف

ٹی20 سیریز: پاکستان کرکٹ ٹیم سری لنکا پہنچ گئی، شاندار روایتی استقبال

مثالی گاؤں پراجیکٹ: پنجاب کے 224 دیہات کو جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کا عمل جاری

کالم / تجزیہ

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟