دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ روز ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں 12 افراد ہلاک اور 27 سے زائد زخمی ہونے کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں فوری طور پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی ہے۔
اسی روز جنوبی وزیرستان کے وانا میں کیڈٹ کالج پر دہشت گردوں کے حملے کی کوشش کو پاک فوج نے ناکام بنایا، جس کے بعد ملک بھر میں سیکورٹی اقدامات کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔
پنجاب حکومت نے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے حساس علاقوں میں پولیس اور ریسکیو فورسز کی تعیناتی بڑھا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: ڈرون پولیسنگ اور نیا مربوط سیکیورٹی اینڈ آرمز ریگولیشن سسٹم منظور
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق، اسلام آباد اور وانا میں ہونے والے حملوں کے فوری بعد صوبے بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
حساس، اہم اور لاہور، راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد جیسے گنجان آباد شہروں میں سیکیورٹی بڑھانے، چیک پوائنٹس کے قیام اور سیکورٹی پلان پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

لاہور میں آئی جی آفس، سی پی او آفس، ججز، وکلا، عدالتی عمارتوں اور ان کے راستوں کی خصوصی حفاظت کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، لاہور میں داتا دربار، پاکپتن، بابا فرید اور قصور میں بلھے شاہ کے دربار پر بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور، تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب: کرکٹ سیریز کے دوران سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کرنے کی ہدایت
انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی، مربوط اور فعال اقدامات اٹھانے پر تاکید کی گئی ہے، جن میں اضافی پٹرولنگ اور سرچ آپریشنز شامل ہیں۔
پنجاب میں پہلے سے دفعہ 144 نافذ ہے، صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پورے پنجاب میں 436 سرچ آپریشنز کیے گئے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان اور سری لنکا کے درمیان جاری کرکٹ سیریز کے پیش نظر بھی سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے؛ راولپنڈی میں کرکٹ اسٹیڈیم اور دیگر مقامات پر بھی سیکورٹی ہائی الرٹ ہے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اسلام آباد کچہری اور وانا کیڈٹ کالج پر دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا غیر متوقع فیصلہ، گیلانی برادران کو فراہم کردہ 9 سالہ سیکیورٹی واپس لے لی
اُن کا کہنا تھا کہ بھارت اور افغان حکومت پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو ہر صورت کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور خودمختار ملک ہے اور دیگر ممالک کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے، مگر اپنی قومی سلامتی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔














