اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد میں اسرائیل سے فلسطینی قیدیوں پر مبینہ طور پر کیے جانے والے منظم تشدد اور بدسلوکی کے حوالے سے سخت سوالات کیے گئے۔
کمیٹی کے رکن پیٹر ویڈل کیسنگ نے بتایا کہ مختلف اداروں اور تنظیموں کی رپورٹس میں اسرائیلی حراستی مراکز میں تشدد اور غیر انسانی سلوک کے بے شمار واقعات درج ہیں، جن میں بچوں اور کمزور طبقات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا
’یہ الزامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تشدد ایک ریاستی پالیسی کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو گرفتاری سے لے کر قید تک ہر سطح پر موجود ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ غزہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے دوران فلسطینی قیدیوں پر تشدد کے واقعات ’غیر معمولی حد تک‘ بڑھ گئے ہیں۔
کمیٹی کو موصول رپورٹس کے مطابق، قیدیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک میں شدید مارپیٹ، بجلی کے جھٹکے، بھوک و پیاس سے تڑپانا، پانی میں ڈبونا (واٹر بورڈنگ) اور جنسی نوعیت کی دھمکیاں شامل ہیں۔
اسرائیلی مؤقف
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینیئل میرون نے ان الزامات کو ’جھوٹ اور گمراہ کن معلومات‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی اخلاقی اقدار اور اصولوں کے مطابق بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کر رہا ہے، حتیٰ کہ دہشتگرد تنظیموں کے خطرات کے باوجود بھی۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی عدالت انصاف نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو غیرقانونی قرار دے دیا
اقوام متحدہ کی یہ کمیٹی 10 آزاد ماہرین پر مشتمل ہے جو کنونشن اگینسٹ ٹارچر (CAT) کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہے۔ کمیٹی ہر رکن ملک کا باقاعدہ وقفے سے جائزہ لیتی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ تشدد کے خلاف اپنے وعدوں پر کس حد تک عمل پیرا ہے۔














