دہشتگرد عناصر مقامی شہری نہیں، سرحد پار سے آتے ہیں، محسن نقوی کا قبائلی عمائدین خطاب

ہفتہ 15 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیڈٹ کالج وانا کا دورہ کیا اور قبائلی عمائدین سے ملاقات کی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دہشتگرد سرحد پار سے آتے ہیں، ہمارے مقامی شہری حملوں اور دھماکوں میں ملوث نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وزیرداخلہ محسن نقوی کا کیڈٹ کالج وانا کا دورہ، خوارجیوں کا حملہ ناکام بنانے والے جوانوں کو شاباش

محسن نقوی نے کہا کہ ناراضگی ہوسکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کے خلاف اسلحہ اٹھایا جائے یا تحریک چلائی جائے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کئی مرتبہ پیغام بھجوایا کہ دہشتگردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وہ آپ کے معاملات میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری طرف سے جو ممکن ہوا آپ کے لیے کریں گے، میں نے بتایا ہے کہ کالج کو پہلے سے بہتر بنائیں، آپ کو بھی خوشی ہوگی کہ یہ پہلے سے بھی اچھا بنا ہے۔

اس موقع پر قبائلی عمائدین نے وزیر داخلہ کا دورے پر شکریہ ادا کیا، انہوں نے کیڈٹ کالج پر حملے کو ناکام بنانے پر فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد بگڑے ہوئے لوگ ہیں، ہم نے اعلان کیا ہے کہ ہم یہاں ٹی ٹی پی کو تسلیم نہیں کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنیوا کانفرنس: پاکستان اور پاک فوج کے خلاف بھارتی ایجنڈے کو تقویت دینے والا گروپ بے نقاب

پاکستان نے بھارت کے شعیہ برادری پر تبصرے کو مسترد کردیا  

چینی اے آئی ایپ سیڈانس نے ہالی ووڈ میں ہلچل مچا دی

ایپسٹین فائلز: بینک آف امریکا متاثرہ خواتین کیس میں تصفیے پر مجبور

پی ایس ایل 11، اسلام آباد یونائیٹڈ کا ملتان سلطانز کو جیت کے لیے 172رنز کا ہدف

ویڈیو

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

آبنائے ہُرمُز، پاکستانی جھنڈے کے چرچے، ٹرمپ پاکستان کی طاقت مان گیا، امن کوششوں پر سعودی عرب کا خراج تحسین

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟