ججز کے استعفے لمحۂ فکریہ، پاکستان محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا، سعد رفیق

پیر 17 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مسلم لیگ (ن) کے رہنما سعد رفیق نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کے حالیہ استعفے پاکستان کے عدالتی توازن کے لیے تشویش ناک علامت قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے تفصیلی بیان میں سابق وفاقی وزیرکا مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ استعفوں کو سیاسی دھڑے بندی کے زاویے سے دیکھنا غلط ہوگا۔

سعد رفیق نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس منصور علی شاہ کے بعد اب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا بھی مستعفی ہو گئے ہیں، جو عدلیہ کے اندر ایک نئے اور پریشان کن رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قانون سازی پارلیمان کا استحقاق، ججز کے استعفے غیر آئینی ہیں، بیرسٹر عقیل

انہوں نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ ججز بحالی تحریک کے دوران ان کے قریبی ساتھی رہے اور وہ ہمیشہ ان کی دیانتداری اور اصول پسندی کے معترف رہے ہیں۔

البتہ بعض عدالتی معاملات میں اختلافات کے باوجود ان کے دل میں احترام برقرار رہا۔

سعد رفیق نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے طور پر منصور علی شاہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دباؤ سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے والے قابل اور دیانتدار جج تھے۔

انہوں نے جسٹس شمس محمود مرزا کے بارے میں بھی کہا کہ وہ اچھی شہرت کے حامل جج تھے، اگرچہ رائل پام کیس اور گوجرانوالہ ریلویز لینڈ کیس میں ان کے فیصلوں سے اختلاف رہا۔

مزید پڑھیں:پارلیمان اور عدلیہ کے اختیارات پر نئی بحث: ’ججز کے استعفے علامتی حیثیت رکھتے ہیں‘

لیگی رہنما نے جسٹس شمس محمود مرزا پر معروف وکیل سلمان اکرم راجہ سے رشتہ داری کے الزام کو ’طفلانہ حرکت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی رشتہ داری کبھی ان کے کام میں خلل انداز نہیں ہوئی۔

سعد رفیق کے مطابق گزشتہ دنوں بھی سپریم کورٹ کے چند ججز مستعفی ہوئے تھے، مگر موجودہ استعفوں کو ان کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی توازن کے لیے یہ ججز ایک اہم ستون تھے اور ان کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا باعثِ تشویش ہے۔

مزید پڑھیں:پارلیمنٹ جب چاہے گی آئین میں ترمیم کرے گی، طلال چوہدری کا ججز کو واضح پیغام

انہوں نے خبردار کیا کہ استعفوں کا سلسلہ اگر عدلیہ سے آگے بڑھ کر پارلیمنٹ تک جا پہنچا تو یہ آئین، قانون اور جمہوریت کے لیے خطرناک ہوگا۔

’ہر مخالف کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا، نہ ہر اختلاف کرنے والے کو دشمن قرار دیا جا سکتا ہے، ایک ذمہ دار ریاست معاملات کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔‘

انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی ادارہ جاتی کشیدگی کو خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر پاکستان اندرونی محاذ آرائی کا زیادہ دیر تک متحمل نہیں ہوسکتا۔

ان کے مطابق ان استعفوں پر خوشی منانا نہیں بلکہ اُبھرتی فالٹ لائنز کو دور کرنا ہی دانشمندی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

سیول کی کچی آبادی میں ہولناک آتشزدگی، 300 فائر فائٹرز متحرک

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘