فواد چوہدری کی سیز فائر مہم اور اڈیالہ جیل کا بھڑکتا الاؤ

منگل 18 نومبر 2025
author image

خرم شہزاد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فواد چوہدری کی سیاسی پوزیشن یا خیالات کچھ بھی ہوں ان کا خاصہ ہے کہ وہ اپنا موقف بیان کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور جو بیانیہ بنانا چاہیں اس کے لیے الفاظ اور دلائل کا انبار لگا دیتے ہیں۔

ان دنوں وہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں اور پی ٹی آئی کے 2 سابق رہنماوں محمود مولوی اور عمران اسماعیل کے ساتھ مل کر مختلف حلقوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

ویک اینڈ پر وہ وی نیوز کے دفتر آئے اور اپنی اس مہم پر تفصیلی بات چیت کی۔ دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ ان کی کوششیں کافی بارآور ثابت ہورہی ہیں اور اب تک وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے کئی سینیئر وزرا اور اسپیکر سے ملاقاتیں کرچکے ہیں جنہوں نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ہامی بھری ہے۔

فواد چوہدری کے مطابق اسٹیبلشمنٹ بھی حالات کو نارمل بنانا اور ملک میں استحکام لانا چاہ رہی ہے اور وہ ان ملاقاتوں سے ملنے والی امید کے بعد رواں ہفتے یا اس سے اگلے ہفتے اس مہم کا دوسرا دور شروع کریں گے۔

فواد چوہدری کا ماننا ہے کہ ملک میں سیاسی سکون لانے کے لیے حکومت کو عمران خان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں اعتماد بحال کرنے کی غرض سے کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر رہنماؤں کی مشکلات میں کمی لانی چاہیے اور رفتہ رفتہ ان کے مقدمات کے حل کی طرف بڑھنا چاہیے، بصورت دیگر پی ٹی آئی اگلے چند ماہ میں پشاور سے ایک اور مارچ اسلام آباد لانے پر مجبور ہوگی جس کے نتائج پہلے سے زیادہ خراب ہوسکتے ہیں۔

فواد چوہدری کی خواہشات اور کاوشیں اپنی جگہ لیکن جو کچھ وہ حاصل کرنا چاہ رہے ہیں، کیا آج کے پاکستان میں وہ ممکن ہے؟

صورتحال یہ ہے کہ حکمران اتحاد اس وقت حکومت اور ملک پر گرفت انتہائی مضبوط کرچکا ہے اور بظاہر اگلے کچھ سالوں تک ان کے اقتدار کو کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آرہا۔ انہیں عسکری قیادت کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور بین الااقوامی سطح پر بھی ان کی قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کی اسٹریٹ پاور انتہائی کمزور پڑچکی ہے اور ناامیدی کے اندھیروں میں پی ٹی آئی کے ورکرز کو سڑکوں پر لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اگرچہ صوبہ خیبر پختونخوا کے نوخیز وزیراعلیٰ سرکاری وسائل، اپنے یوتھ ونگ کے جذبے اور کچھ دیوانے سپورٹرز کی بدولت ایک قافلے کا انتظام تو کر ہی لیں گے لیکن سابقہ احتجاجی جلوسوں کی ناکامی اور اس دوران ہونے والے تشدد کے پیش نظر پی ٹی آئی کے بیشتر حامی یا تو خود یا پھر اپنے خاندانوں کے دباؤ کے تحت ایسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہی رہیں گے۔

سونے پہ سہاگہ جو بیانات وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بذات خود دے رہے ہیں ان کے بعد ادارے فی الوقت ان سے کسی طرح کی رعایت برتنے کے حق میں بالکل نہیں ہوں گے۔ سو اگر فواد چوہدری اور ان کے ساتھیوں کی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچنا ہے تو اس کے لیے جہاں حکومت کو کچھ لچک دکھانی ہے وہیں پی ٹی آئی کو اپنے طرز عمل میں واضح تبدیلی لانا پڑے گی۔

حکومت کا کہنا یہ ہے کہ اس نے ماضی میں بھی کئی بار بات چیت کے ذریعے معاملات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن جب بھی مسائل کے حل کی طرف پیشرفت ہوتی عمران خان کوئی ایسا اعلان کردیتے جس سے مذاکرات کا عمل رک جاتا۔

اب بھی جب تک عمران خان کی طرف سے ضمانت نہیں آئے گی یہ بیل منڈھے چڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ بالخصوص ان حالات میں جب ریاستی ادارے بھی 9 مئی اور دیگر سنگین مقدمات پر پیچھے ہٹنے کو آمادہ نہیں ہورہے۔

تو پھر حل کیسے نکلے گا؟

فواد چوہدری اور حکومتی ترجمانوں کے بیانیے ایک طرف لیکن پاکستان کی سیاست کے کچھ حقائق ایسے ہیں جن کو مدنظر رکھ کر اور فیصلوں کی بنیاد بنا کر ہی تمام فریقین اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومتی انتظام کے حق میں بہتر یہی ہے کہ عمران خان جیل میں رہیں اور پی ٹی آئی سے اگر کوئی بات چیت ہوتی ہے تو اس کا مطمع نظر یہی ہو کہ اس کو احتجاج سے باز اور خاموش رکھا جائے۔ لہٰذا یہ حکومت کبھی بھی عمران خان کی رہائی یا تحریر و تقریر کی آزادی کی طرف بڑھنا نہیں چاہے گی یہاں تک کہ ریاستی ادارے خود یہ فیصلہ نہ کرلیں کہ قیدی نمبر 804 کو اب کچھ رعایت دے دی جائے۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ اڈیالہ کے باسی کا اب تک کا طرز عمل بالکل بھی ایسا نہیں رہا کہ بااختیار لوگ اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اس کے گرد کسے گئے شکنجے کی کچھ زنجیریں ہلکی سی ڈھیلی کردیں۔ بالخصوص ان حالات میں جب اس کو دی گئی رعایت خود ان کے لیے مشکل بن کر سامنے آئے۔

ایسے میں گرہیں تبھی کھلیں گی جب ان میں بندھا ہوا ان کو دانتوں سے کاٹنے کے بجائے اپنی حرکت سے ان کو ڈھیلا کرے اور رویے کی چاشنی سے سخت رسیوں کو نرم کردے۔

فواد چوہدری کی اعمتاد سازی اور سیاسی درجہ حرارت میں کمی کی کوششیں بھی تبھی کامیاب ہوں گی جب اس درجہ حرارت کو بڑھانے والے اڈیالہ جیل کے الاؤ کی شدت وہاں کا باسی کم کرے گا۔ جب اس کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس وقت اس کے گرد چلنے والی تیز ہوائیں اونچے شعلوں کو بھجانے کی سکت رکھتی ہیں اور اس کو فی الوقت بلند و بالا شعلوں پر نہیں بلکہ ہلکی آنچ پر بھروسہ کرنا ہے۔

اس آنچ کو اتنا ٹھنڈا کرنا ہے کہ شعلوں کو بھجانے کی سکت رکھنے والی ہوائیں جامد ہوجائیں، درجہ حرارت اتنا نیچے چلا جائے کہ اس کے شکنجے کو زنگ لگ جائے اور اس پر پڑا ہوا تالہ ناکارہ ہوکر خود ہی کھل جائے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو، فیصل کریم کنڈی

بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر کی واشنگٹن میں امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں، دوطرفہ اقتصادی تعان پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر اطلاعات کی عشرت فاطمہ کے گھر آمد، پی ٹی وی میں بطور مینٹور شمولیت کی پیشکش

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار

بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ آج رات 12 بجے کے بعد ممنوع

ویڈیو

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

مردان کے ریڈ بلڈ بیڑوچ مالٹے کی خاص بات کیا ہے؟

وی ایکسکلوسیو: نہ کوئی ونڈر بوائے آرہا ہے نہ ٹیکنوکریٹس اس ملک کے مسائل حل کرسکتے ہیں: مصدق ملک

کالم / تجزیہ

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘

ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن