پاکستان کے مایہ ناز بیٹر بابر اعظم کو سری لنکا کے خلاف تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل کے دوران آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق 31 سالہ بابر اعظم نے کھلاڑیوں اور معاون اسٹاف کے لیے مقرر کردہ ضابطہ اخلاق کی شق 2.2 کی خلاف ورزی کی۔ واضح رہے کہ یہ شق میچ کے دوران کرکٹ ساز و سامان، کپڑوں، گراؤنڈ کے آلات یا فکسچر کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔
مزید پڑھیں: 2 سال بعد سینچری اسکور کرکے بابر اعظم نے مخالفین کو کیا پیغام دیا؟
واقعہ سری لنکا کے خلاف تیسرے ایک روزہ میچ کے دوران پاکستان کی اننگز کے 21ویں اوور میں پیش آیا، جب آؤٹ ہونے کے بعد بابر اعظم غصے میں پویلین لوٹتے ہوئے اپنا بیٹ اسٹمپس کو لگا بیٹھے۔
خلاف ورزی ثابت ہونے پر بابر اعظم کو ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دے دیا گیا ہے، جو گزشتہ 24 ماہ میں ان کا پہلا ڈی میرٹ پوائنٹ ہے۔
آن فیلڈ امپائرز الیکس وارف اور رشید ریاض، تھرڈ امپائر شرف الدولہ ابن شاہد اور فورتھ امپائر فیصل آفریدی نے بابر اعظم پر الزام عائد کیا، جبکہ علی نقوی (ایمرٹس آئی سی سی انٹرنیشنل پینل آف میچ ریفریز) نے سزا تجویز کی۔
پاکستانی بیٹر نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے سزا قبول کرلی، جس کے بعد باضابطہ سماعت کی ضرورت پیش نہ آئی۔
مزید پڑھیں: بابر اعظم کا ایک اور سنگ میل، پاکستان کے جانب سے سب سے زیادہ ون ڈے سینچریوں کا ریکارڈ برابر کردیا
آئی سی سی کے مطابق لیول 1 کی خلاف ورزی پر کم سے کم سرزنش اور زیادہ سے زیادہ 50 فیصد میچ فیس تک جرمانہ ہوسکتا ہے، جبکہ ایک یا 2 ڈی میرٹ پوائنٹس بھی دیے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف سیریز میں وائٹ واش کیا جبکہ بابر اعظم نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 165 رنز اسکور کیے، جن میں ان کی ریکارڈ 20ویں ون ڈے سنچری بھی شامل تھی۔














