بھارتی فضائیہ (IAF) کی تاریخ میں طیارہ حادثات کا ریکارڈ بھی تشویشناک رہا ہے۔ مختلف تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں IAF کو ہزاروں طیاروں کے حادثات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں لڑاکا جیٹس، ٹرینرز، ہیلی کاپٹرز اور دیگر طیارے شامل ہیں۔ یہ حادثات انسانی جانوں اور قیمتی اثاثوں کا بڑا ضیاع ہیں۔

کل حادثات اور پائلٹس کی ہلاکتیں
رپورٹس کے مطابق گزشتہ 30 سالوں میں IAF کے 534 طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں، جس میں کم از کم 152 پائلٹس ہلاک ہوئے ہیں۔ اس عرصے میں کئی طیارے زمین سے ٹکرانے، تکنیکی خرابی یا فضائی جنگی مشقوں کے دوران تباہ ہوئے۔

MiG-21: حادثاتی ریکارڈ کا ’فلائنگ کوفن‘
MiG-21 ماڈل سب سے زیادہ حادثات کا شکار رہا ہے۔ پچھلے 60 سالوں میں تقریباً 400 سے زائد MiG-21 طیارے گر چکے ہیں، جن میں 200 سے زیادہ پائلٹس اور متعدد شہری بھی ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:دبئی ایئر شو : نااہل بھارتی فضائیہ نے دنیا کے سب سے بڑے فضائی ایونٹ کو بدنما داغ دے دیا
یہی وجہ ہے کہ MiG-21 کو میڈیا اور دفاعی تجزیہ کاروں نے ’فلائنگ کوفن‘ یعنی اڑتے تابوت کا خطاب دیا ہے۔
رپورٹس بتاتی ہیں کہ 1990 کی دہائی میں IAF کے حادثات کی شرح 20–30 فی سال تک جا پہنچی تھی، حالیہ برسوں میں ایک یا دو کلاس-1 حادثات (جہاز مکمل تباہ) رپورٹ ہوئے۔
تکنیکی وجوہات اور انسانی عوامل
حادثات کی وجوہات میں انسانی خامی، طیارے کی تکنیکی خرابی، اور پرانے طیاروں کی مرمت میں مشکلات شامل ہیں۔

یہ تمام عوامل IAF کے لیے مستقل چیلنج ہیں، کیونکہ ہر حادثہ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہے بلکہ دفاعی وسائل اور قومی سرمایہ کاری کا نقصان بھی ہے۔












