ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے اہم عالمی فورم سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، سمندری راستوں کے سنگم پر موجودگی اور بحیرۂ عرب کو ’5واں پڑوسی‘ قرار دیتے ہوئے عالمی بحری سلامتی، تنوعِ کنیکٹیویٹی اور پائیدار ترقی کے لئے بھرپور تعاون چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین انڈو پیسفک فورم: اسحاق ڈار کی سنگاپور کے وزیرِ خارجہ اور بنگلادیشی سفیر سے غیررسمی ملاقات
انہوں نے کہا کہ کراچی سے گوادر تک پاکستان کی بندرگاہیں وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ممالک کو عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا دروازہ ہیں، جبکہ بحیرۂ عرب ہماری قومی سلامتی، اقتصادی مضبوطی، اور غذائی و توانائی کے تحفظ کا مرکزی ستون ہے۔
متعدد النوع اور سرحد پار خطرات
وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ آج دنیا کو بحری شعبے میں کئی الجھے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، بحری قزاقی، دہشتگردی، اسلحہ و منشیات اسمگلنگ، سائبر حملے، سمندری آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی سے بڑھتے خطرات۔
Statement by the Deputy Prime Minister/Foreign Minister on Critical Maritime Infrastructure and Connectivity/Development
🔗⬇️https://t.co/Ru9qhcJc1n pic.twitter.com/FLxNgpnwT4
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 22, 2025
ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ آگاہی، معلومات کے تبادلے اور ابتدائی وارننگ نظام کی اشد ضرورت ہے۔
بین الاقوامی قوانین کے تحت تعاون ضروری
خطاب میں زور دیا گیا کہ سمندر کو باہمی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کا ذریعہ بنایا جائے۔ کسی بھی قسم کی بالا دستی یا خارجیت پر مبنی بحری انتظامات مناسب نہیں۔
سمندری معاملات کو اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) سمیت علاقائی و دوطرفہ قانونی فریم ورکس کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔ سمندری تنازعات کا حل ہمیشہ بین الاقوامی قانون کے تحت پرامن طریقے سے ہونا چاہیے۔

مزید کہا گیا کہ عالمی کنیکٹیویٹی کو ایسے نظام سے جوڑا جائے جو زیادہ مضبوط ہو، تاکہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والی رکاوٹ عالمی سطح پر بحران کا باعث نہ بنے۔ ساتھ ہی تکنیکی تعاون اور جدید حلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
پاکستان نے SUPARCO کے تعاون سے سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ویسل ٹریکنگ کو اپنے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈی نیشن سینٹر میں شامل کیا ہے اور مزید تعاون کا خواہاں ہے۔
یورپی یونین سمیت عالمی شراکت داروں سے تعاون کی خواہش
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اہم بحری تنصیبات کے تحفظ کے لئے یورپی یونین اور دیگر ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر، قوانین کے تبادلے اور استعداد کار میں اضافے کے پروگراموں کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تقسیم اور طاقت کی دوڑ دنیا کے لیے خطرہ ہے، اسحاق ڈار
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح یہ ہے کہ سمندر ہمیشہ امن، خوشحالی اور مشترکہ ترقی کے خطے رہیں—جہاں کنیکٹیویٹی مقابلے نہیں بلکہ مضبوطی پیدا کرے۔














