علیمہ خان عارضی تحویل کے بعد ضمانت پر رہا

بدھ 26 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

راولپنڈی کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو مختصر عدالتی تحویل میں لینے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کا دھرنا ختم

سماعت کے آغاز سے قبل علیمہ خان عدالت سے باہر نکلیں تو خواتین پولیس اہلکاروں نے انہیں دوبارہ تحویل میں لے کر کمرہ عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے واضح ہدایت کی کہ ملزمہ عدالتی احاطے سے باہر نہ جائیں۔

دورانِ کارروائی پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی سیکشن 351 کے تحت علیمہ خان عدالتی تحویل میں ہیں، لہٰذا وہ بغیر اجازت عدالت سے باہر نہیں جا سکتیں۔

اس موقع پر علیمہ خان نے استدعا کی کہ ان کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، انہیں تھوڑی مہلت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:کل تمام لوگ سیاہ جھنڈے اور پٹیاں باندھ کر باہر نکلیں، علیمہ خان

بعد ازاں ان کے وکیل فیصل ملک عدالت پہنچے اور علیمہ خان کی جانب سے 10،10 لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرائے گئے، جس کے بعد عدالت نے رہائی کی اجازت دے دی۔

اس کیس میں مجموعی طور پر 11 ملزمان نامزد ہیں، اور عدالت اس سے قبل علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ بھی کئی بار جاری کر چکی ہے۔ وکلا صفائی کی درخواست پر مزید سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں ایگری انٹرن پروگرام کے مثبت اثرات، گندم کی پیداوار میں اضافہ

انجری کے بعد واپسی مشکل، نیمار ایک بار پھر برازیل کے اسکواڈ سے باہر

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے زراعت، معاشی سلامتی اور عوامی بہبود پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

آج سونے کی فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا؟

سلیم خان کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، گھر کب جائیں گے؟

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا