الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف کیس کی اگلی سماعت 4 دسمبر کو مقرر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابی عملے کو دھمکانے کا کیس، وزیراعلیٰ خیبر کی الیکشن کمیشن میں پیشی
کمیشن نے سہیل آفریدی کو این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخاب کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔
الیکشن عملے کو دھمکانے کا الزام
ای سی پی نے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف اس بیان اور مبینہ دھمکی کا نوٹس لیا تھا جس میں انہوں نے جلسے کے دوران الیکشن کمیشن کے عملے، ضلعی انتظامیہ، پولیس کو مبینہ طور پر دھمکیاں دیں، اور عوام کو بھڑکانے کی کوشش کی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق جلسے میں ایک مفرور مجرم بھی وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ موجود تھا جس نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔
سیکریٹری ای سی پی کے خط
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری دفاع کو ارسال کردہ خطوط میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے حالیہ اقدام سے الیکشن افسران کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیے: مزید 4 ججوں کے استعفے تیار، سہیل آفریدی پارٹی کے لیے بہتر کیسے؟
وزیرِ اعلیٰ کے بیان نے انتظامیہ اور الیکشن عملے کی سیکیورٹی اور آزادی کو متاثر کیا ہے۔
الیکشن کمیشن اس معاملے کی تفصیلی سماعت 4 دسمبر کو کرے گا۔ اس حوالے سے کاز لسٹ جاری کردی گئی ہے۔

گزشتہ سماعت، وزیراعلیٰ پیش
قبل ازیں 25 نومبر کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور الیکشن کیمشن عملے کو دھمکانے کے کیس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی الیکشن کمیشن میں پیش ہو گئے تھے۔
سہیل آفریدی کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور الیکشن عملے کو دھمکانے کا کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی۔
وزیر اعلیٰ کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ این اے 18 سے متعلق دو تین اور درخواستیں ہیں انہیں اکٹھا کرلیں جبکہ اسپیشل سیکریٹری لانے کہا کہ اس کیس کو علیحدہ دیکھا جائے۔
مزید پڑھیں: چشمہ رائٹ بینک کینال کو پی ایس ڈی پی فنڈنگ کے ذریعے جلد شروع کرایا جائے، سہیل آفریدی کا وزیراعظم کو خط
چیف الیکشن کمشنر نے وزیراعلیٰ کے وکیل سے کہا کہ ہم آپ کو سنیں گے آپ جتنے دن مرضی دلائل دیں۔













