وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی یہ یقین دہانی کرائے کہ عمران خان سے جیل میں صرف ملاقات ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی سرگرمی نہیں ہوگی تو ملاقاتوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کا معمہ، حکومت کی خوف زدگی، سہیل آفریدی کو جھٹکا اور نور مقدم کیس میں نیا موڑ
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ اگر ملاقات کے دوران یا بعد میں جلاؤ گھیراؤ، احتجاج یا ریاست کے خلاف ٹوئٹس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے تو پھر ملاقات نہیں کرائی جا سکتی۔

ان کے بقول جیل میں بیٹھ کر کسی شخص کو اسلام آباد پرچڑھائی اور جلاؤ گھیراؤ یا سیاسی احتجاج کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد کروانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ملاقات کے بعد اگر سیاسی رنگ دیا جائے یا پریس کانفرنس کی جائے تو جیل اتھارٹی قانون کے تحت اس پر اعتراض کر سکتی ہے۔ ملاقاتیں صرف ذاتی ملاقات تک محدود ہونی چاہییں۔
مزید پڑھیے: دھرنوں سے بلیک میل نہیں ہونگے، پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے قانونی راستہ اپنائے،عطا تارڑ
انہوں نے پی ٹی آئی کو ہدایت کی کہ وہ جیل اتھارٹی کے ساتھ اپنے معاملات طے کریں اور قانون پر عمل کریں۔
سینیٹر ثنااللہ نے واضح کیا کہ عدالت نے کہا تھا کہ عمران خان کی فیملی اور وکلا ان سے ملاقات کر سکتے ہیں لیکن اس پر سیاست نہیں ہوگی مگر سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں۔
پاکستان افغانستان پر جنگ مسلط کرنا نہیں چاہتا
مزید برآں رانا ثنااللہ نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان پر جنگ مسلط کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن وہ ایسے اڈوں کو نشانہ بنانے کا حق رکھتا ہے جہاں سے پاکستان پر حملے اور دہشتگرد کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں: افغانستان سے حملے کے بعد چینی باشندوں کو تاجکستانی سرحدی علاقہ چھوڑنے کی ہدایت
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرحد سے بھارت کی سرپرستی میں دہشتگرد کارروائیاں جاری ہیں۔














