اسرائیلی فوجیوں کا گرفتاری دینے والے 2 فلسطینیوں کو قتل کرنے کا واقعہ، ویڈیو منظرعام پر آگئی

ہفتہ 29 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

 

 

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں جمعرات کی شب اسرائیلی اہلکاروں کی کارروائی کے دوران پیش آنے والا واقعہ ایک ویڈیو میں ریکارڈ ہو گیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی اہلکاروں نے 2 فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے چند سیکنڈ بعد ہی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

اس واقعے کی اسرائیلی وزارتِ انصاف نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم اسرائیل کے دائیں بازو کے وزیر ایتامار بن گویر نے اسے پہلے ہی دفاع دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو مرنا ہی چاہیے۔ اس واقعے کے عینی شاہد صحافی بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے: جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، اسرائیلی حملے میں کمانڈر کی شہادت پر حزب اللہ کا سخت ردعمل

اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ جنین کے قریب مشترکہ فوجی اور بارڈر پولیس آپریشن کے دوران 2 افراد کو گولی ماری گئی۔ فوج کے مطابق معاملہ کمانڈرز کی سطح پر زیرِ جائزہ ہے اور اسے متعلقہ اداروں کو بھیجا جائے گا۔

فلسطینی اسلامی جہاد نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ہلاک شدگان اس کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز کے کارکن تھے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکاروں نے ایک گیراج نما عمارت کا دروازہ کھولنے کے لیے مکینیکل ڈگر کا استعمال کیا، جس کے بعد دو افراد ہاتھ اٹھائے، گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے باہر آئے اور غیر مسلح ہونے کا ثبوت دیا۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ: اسرائیلی حملوں میں بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید، حماس کی ثالثوں سے مداخلت کی اپیل

اسرائیلی میڈیا کے مطابق بارڈر پولیس کی خصوصی فورس ’یماس‘ کے اہلکار موقع پر موجود تھے۔ ایک افسر کو ویڈیو میں حراست میں لیے گئے افراد کو ٹھوکریں مارتے اور پھر انہیں دوبارہ عمارت کے اندر جانے کا حکم دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ چند لمحوں بعد پانچ اہلکار بندوقیں تانتے ہیں اور دونوں فلسطینی فائرنگ سے موقع پر ہی گر پڑتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے واقعے کو بے رحمانہ قتل قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ اسرائیلی تنظیم بیتسلیم کی ڈائریکٹر یولی نوواک نے کہا کہ یہ واقعہ فلسطینیوں کی انسانیت سے محرومی اور جوابدہی کے خاتمے کی واضح مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیے: فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے پر اسرائیل کا مغربی کنارے کو قبضے میں لینے پر غور

القدس بریگیڈز نے ہلاک شدگان کی شناخت 37 سالہ یوسف اساسا اور 26 سالہ محمود عبداللہ کے طور پر کی ہے اور بتایا کہ دونوں جنین بریگیڈ کے کمانڈر اور فائٹر تھے۔

ماہرین کے مطابق غیر مسلح قیدیوں کا قتل جنگی جرم ہے، تاہم اسرائیلی اہلکاروں کو فلسطینیوں کی ہلاکت پر شاذونادر ہی سزا ملتی ہے۔ IDF نے بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران ہدف بنائے گئے افراد مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیرِ داخلہ کا ایئرپورٹ کا اچانک دورہ: امیگریشن کارکردگی کا جائزہ، ویزا ایجنٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

بہتر انتظامات مگر انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزیاں اور کم ٹرن آؤٹ، ضمنی انتخابات پر فافن کی رپورٹ

صدر اور وزیراعظم پاکستان کا عالمی یومِ یکجہتیِ فلسطین پر مشترکہ اظہارِ حمایت

صدرِ پاکستان کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ، قومی سلامتی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب

نیدرلینڈز میں بڑھتے سیلاب اور رہائش کی کمی کے درمیان تیرنے والے گھروں کی مانگ میں اضافہ

ویڈیو

فٹ پاتھ پر پینٹنگ بیچتا ہوا نوجوان

عمران خان سے ملاقات کا معمہ، حکومت کی خوف زدگی، سہیل آفریدی کو جھٹکا اور نور مقدم کیس میں نیا موڑ

پہلے ٹوئٹر پر سخت پوسٹ کرنا چھوڑو، پھر ملاقات، عمران خان کی صحت سے متعلق فیک نیوز، سہیل آفریدی بھی ناکام

کالم / تجزیہ

ڈیجیٹل تشدد، ایک انتباہ

نورمقدم کیس: جسٹس باقرنجفی کے فیصلے پر ردعمل کیوں ؟

ہر دلعزیز محمد عزیز