پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ

ہفتہ 29 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے پولیس کی جانب سے غیر قانونی حراست، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف بڑا فیصلہ جاری کیا ہے۔ 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز رویہ، ذاتی وقار کی پامالی کسی بھی صورت جائز نہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ بعض اوقات پولیس تشدد کا سہارا لے کر استثنیٰ کے مفروضے کے تحت ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن یہ عمل ماورائے عدالت قتل کا سبب بن سکتا ہے اور اسے روکنے کے لیے پولیس فورس پر مؤثر اور خصوصی نگرانی ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، ماورائے عدالت حراستی قتل ’فساد فی الارض‘ قرار

سپریم کورٹ نے فیصلہ میں کہا کہ زندگی کا حق سب سے اعلیٰ انسانی حق ہے اور آئین ریاست پر فرض عائد کرتا ہے کہ ہر شہری کے حقِ زندگی، آزادی اور وقار کا تحفظ کرے۔

عدالت نے مزید کہا کہ غیر قانونی حراست، گرفتاری، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف آئینی ضمانتیں اور قانونی اصول موجود ہیں اور پولیس ہر شخص کی جان، آزادی اور عزت کی حفاظت کی پابند ہے۔

عدالت نے زریاب خان نامی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھنے اور تشدد کرنے والے 3 پولیس کانسٹیبلز کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے سزائیں برقرار رکھی ہیں۔

مزید پڑھیں: شیخ حسینہ کو اپنی ہی قائم کردہ عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے کہا کہ ان اہلکاروں کا عمل اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے اور نوکری سے برخاست کرنے کے محکمانہ فیصلے ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 10 اور آرٹیکل 14 کی وضاحت کی گئی، جس کے مطابق گرفتار شخص کو گرفتاری کی وجوہات بتائے بغیر حراست میں نہیں رکھا جا سکتا اور اسے 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے، اور کسی کی عزت نفس یا گھر کی پرائیویسی کی پامالی نہیں کی جا سکتی۔

یہ فیصلہ ڈیرہ غازی خان کے 3 پولیس کانسٹیبلز کی اپیلوں پر آیا، جو زریاب خان کو غیرقانونی حراست میں رکھنے اور قتل کرنے کے الزامات میں شامل تھے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی، غیر قانونی گرفتاریاں اور ماورائے عدالت ہلاکتیں معمول بن گئیں

نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کیخلاف پہلے پنجاب سروس ٹربیونل سے رجوع کیا گیا تھا، جس نے برخاستگی برقرار رکھی۔ بعد ازاں اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی، جسے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سنا، جس میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دلہے نے جہیز میں لاکھوں روپے لینے سے انکار کرکے باراتیوں کے دل جیت لیے

یوٹیوبر ڈکی بھائی رہائی کے بعد اب کیا کریں گے؟ اہلیہ عروب جتوئی کا سوشل میڈیا پر اہم بیان

سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کے بھارتی میڈیا چینلز پر انٹرویوز، مقصد کیا ہے؟

ٹرمپ نے بائیڈن کے آٹوپین سے دستخط شدہ تمام احکامات منسوخ کر دیے

ویڈیو

فٹ پاتھ پر پینٹنگ بیچتا ہوا نوجوان

عمران خان سے ملاقات کا معمہ، حکومت کی خوف زدگی، سہیل آفریدی کو جھٹکا اور نور مقدم کیس میں نیا موڑ

پہلے ٹوئٹر پر سخت پوسٹ کرنا چھوڑو، پھر ملاقات، عمران خان کی صحت سے متعلق فیک نیوز، سہیل آفریدی بھی ناکام

کالم / تجزیہ

ڈیجیٹل تشدد، ایک انتباہ

نورمقدم کیس: جسٹس باقرنجفی کے فیصلے پر ردعمل کیوں ؟

ہر دلعزیز محمد عزیز