پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر اور محمد زبیر نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک، خصوصاً خیبر پختونخوا کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہا کیا۔
اسد قیصر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے این ایف سی میں شیئرز اسے نہیں مل رہے ہیں۔ سرتاج عزیز کی کمیٹی نے صوبے کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ ضم ہونے کے بعد 10 سال میں ایک ہزار ارب روپے فاٹا کی ترقی کے لیے دیں گے اور ہر صوبہ این ایف سی میں سے اپنا 3 فیصد حسہ فاٹا کو دیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: این ایف سی کا ابتدائی اجلاس پھر مؤخر، سیاسی مشاورت کی جائے گی
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ وعدے پورے نہیں ہوئے، وفاقی حکومت صوبے کی رائیلٹیز نہیں دے رہی، ہمارے صوبے کو عالمی سیاست میں استعمال کیا گیا جس سے صوبہ متاثر ہوا، افغان جنگ کی وجہ سے کوئی کسر باقی نہیں رہی، جنگ کے دوران ہر قسم کے لوگ آئے اور سماج اور ثقافت کو بری طرح متاثر کیا، صنعتیں صوبہ چھوڑ کر چلی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خودکش اور ڈرون حملے شروع ہوئے، ہمارا صوبہ خصوصاًمعیشت کے حوالے سے بہت متاثر ہوا، عالمی جنگیں ہمارے صوبے میں لے آئے اور ترقی پر توجہ نہیں دی، اب پاک افغان ٹرانزٹ تجارت بھی بند کردی لیکن اس کے باوجود اسمگلنگ کا الزام دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: نئے صوبوں کا قیام، این ایف سی ایوارڈ فارمولے میں تبدیلی، رانا ثنااللہ کھل کر بول پڑے
اسد قیصر نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا میں بےروزگاری بڑھ گئی ہے اور ایسا ماحول بنایا جارہا ہے جس سے دہشتگردی کو فروغ ملے گا۔ کل عمران خان نے بھی افغانستان کے ساتھ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔
محمد زبیر
سابق گورنر سندھ اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما محمد زبیر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر جنرل سرفراز نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں جتنے ٹیکسز ہیں کوئی آکر سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکام کے خود اعتراف کررہے ہیں کہ معیشت اور گورننس کی صورتحال خراب ہے، تجارتی خسارہ 37 فیصد بڑھ گیا ہے، وزیراعظم پر ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا جواب دیں۔
محمد زبیر نے کہا کہ عام پاکستانی باہر دھکا کھا رہے ہیں اور ریڈ پاسپورٹ رکھنے والے حکومتی وزرا کہہ رہے ہیں کہ ملک کی عزت بڑھ گئی ہے، ہر بین الاقوامی سروے میں ہمارا آخری نمبر ہے۔














