اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کی سماعت کے دوران سخت گیر انداز میں کیس کی تعطل پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ معاملے کو فوری طور پر فائنل کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس: پاکستان کی امریکا کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تجویز
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ ہم اس کیس کو نمٹانا چاہتے ہیں، جو بھی ہے جیسا بھی کیس ہے اسے اب فائنل کریں۔ آپ کیوں اسے اتنا لمبا جانا چاہتے ہیں؟ اتنا وقت نہیں ہے کہ ہم 4 ججز بیٹھ کر یہی کرتے رہیں۔
انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مطالبہ کیا کہ امائیکس بریف جمع کروایا جائے تاکہ کیس آگے بڑھ سکے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر بریف جمع کروا دیا جائے تو کیس کی کارروائی جاری رکھی جا سکتی ہے، اور میڈیکل سہولیات سے متعلقہ امور بعد میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا میں قید کاٹنے والی عافیہ صدیقی کے کیس میں کب کیا ہوا؟
جسٹس طاہر نے توہین عدالت کے نوٹس کی یاد دہانی بھی کرائی اور کہا کہ وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی اقدام کرنا ہوگا۔
سماعت کے دوران عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ موسم گرما کی تعطیلات کے بعد کیس پر توجہ دی جائے۔ جس کے بعد عدالت نے سماعت 20 جنوری تک ملتوی کر دی۔














