چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی کا کہنا ہے کہ ہم خود تو فون استعمال کرتے ہیں لیکن عام لوگوں کو اسے استعمال نہیں کرنے دیتے۔
ان کے مطابق سب سے زیادہ ایف آئی آر موبائل فونز کی رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔ ’ایک فون پر 2 لاکھ 48 ہزار ٹیکس دیا، فون چوری ہو گیا تو اب اگلے روز نیا فون خرید کر نیا ٹیکس بھرنا ہوتا ہے، یہ بہت بڑی ناانصافی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: موبائل فونز پر ناقابلِ برداشت ٹیکس سے چھٹکارا، 3 دسمبر کو کیا فیصلہ متوقع ہے؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ موبائل فونز کو شیڈول 9 سے شیڈول 8 میں منتقل کیا جائے، جس طرح سولر پینلز اور کمپیوٹرز شیڈول 8 میں شامل ہیں اور ان پر 17 فیصد تک ٹیکس ہے، جبکہ موبائل فونز پر 60 فیصد تک ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے قاسم گیلانی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ایک بھی فون لانے کی اجازت نہیں ہے، رشتے دار فون لانے کا کہتے ہیں، لیکن فون لاتے ہیں تو بھاری ٹیکس لگ جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت کا قسطوں پر موبائل فون فراہم کرنے کا منصوبہ تعطل کا شکار
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کے پاس 2 فون ہوتے ہیں ایک پی ٹی اے رجسٹرڈ اور ایک نان پی ٹی اے، دوسری جانب فائلراورنان فائلردونوں کوایک ہی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، جبکہ دیگر محکموں میں دونوں کے لیے الگ الگ شرحِ ٹیکس ہوتی ہے۔
’ایک فون پر متعدد ٹیکس لاگو ہیں۔ ودہولڈنگ ٹیکس تو ٹیکس ریٹرن میں ایڈجسٹ ہو جاتا ہے لیکن پی ٹی اے ٹیکس واپس نہیں ہوتا۔‘
مزید پڑھیں: وزیر اعظم کے وژن ’ڈیجیٹل پاکستان‘ کے تحت 9 نئے ٹیلی کام منصوبوں کی منظوری
قاسم گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں تیار ہونے والے اسمارٹ فونز کی کوالٹی معیاری نہیں، اس لیے لوگوں کو بیرونِ ملک سے فون خریدنا پڑتے ہیں۔
’ہم لوکل فونز پر 5G بھی نہیں چلا سکتے۔‘
چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی اے کو اس ٹیکس کا ایک روپیہ بھی نہیں ملتا، تمام ٹیکس ایف بی آر کو جاتا ہے، لیکن تنقید پی ٹی اے پر ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: بیرون ملک سے موبائل لانے پر ٹیکس میں کمی، وزیراعظم شہباز شریف نے خوشخبری سنادی
چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ ٹیکس ایف بی آر نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ نے منظور کیے ہیں۔
’ہم گاڑیاں بھی مہنگی خریدتے ہیں اور ان پر بھی بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں۔‘
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اس معاملے پر ایف بی آر سے منگل کو جواب طلب کر لیا ہے۔













